تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 180 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 180

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۰ سورة بنی اسراءیل لیکچر سیالکوٹ ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۲۲۰) دیا اور اس وعدہ کا کچھ پاس نہ کیا۔یہ پکی بات ہے کہ کفار نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آسمان پر چڑھ جانے کا معجزہ مانگا۔اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو ہر طرح کامل اور افضل تھے۔ان کو چاہیے تھا کہ وہ آسمان پر چڑھ جاتے مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی وحی سے کیا جواب دیا قُلُ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولًا اس کا مفہوم یہ ہے کہ کہہ دو اللہ تعالیٰ اس امر سے پاک ہے کہ وہ خلاف وعدہ کرے جبکہ اس نے بشر کے لئے آسمان پر مع جسم کے جانا حرام کر دیا ہے۔اگر میں جاؤں تو جھوٹا ٹھیروں گا۔اب اگر تمہارا یہ عقیدہ صحیح ہے کہ مسیح آسمان پر چلا گیا ہے اور کوئی بالمقابل پادری یہ آیت پیش کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرے تو تم اس کا کیا جواب دے سکتے ہو؟ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۴۱ مورخه ۳۰ رنومبر ۱۹۰۶ صفحه ۵) فَانْظُرِ اقْتِدَاء لِهَذَا الْقَانُونِ تو اس محفوظ قانون کی پیروی کرتے ہوئے جو ہمیں الْعَاصِمِ الَّذِي بَلَغَنَا مِنْ رَّسُولِ الله رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہنچا ہے غور کر کیا تو مسیح کے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هَلْ تَجِدُ جسم عصری کے ساتھ اوپر چڑھنے اور ان کے آسمان سے دو لِقِصَّةِ صُعُودِ الْمَسِيحِ مَعَ جِسْمه فرشتوں کے پروں پر دونوں ہاتھ رکھے ہوئے اُترنے کے قصہ الْعُنْصُرِي وَلِفِضَّةِ نُزولِهِ مِنَ السَّمَاء کی کوئی بنیاد یا ثبوت قرآن مجید میں پاتا ہے؟ یا اس قصہ سے وَاضِعًا كَفَيْهِ عَلى جَمَاعَيِ الْمَلكَيْنِ مشابہ کوئی اور قصہ پاتا ہے؟ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید اس أَصْلًا أَوْ أَثَرًا فِي الْقُرْآنِ أَوْ قِصَّةٌ فما دنیا میں اس قسم کے افعال سے اللہ تعالیٰ کی شان کو منزہ قرار دیتا يُقابِهُ هَذِهِ الْقِصَّةَ بَلِ الْقُرْآنُ يُنزِهُ ہے اور فرماتا ہے: قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا شَأْنَ اللهِ عَن مِثْلِ تِلْكَ الْأَفْعَالِ فِي رَسُولاً اے رسول تو انہیں کہہ کہ میرا رب ایسی بیہودہ باتوں هذِهِ الدُّنْيَا وَيَقُولُ قُلْ سُبحَانَ رَبِّي کے اختیار کرنے سے پاک ہے میں تو صرف بشر رسول ہوں هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولاً۔آسمان پر نہیں جاسکتا۔( ترجمہ از مرتب) حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلد۷ صفحه ۲۱۹،۲۱۸) ایک طرف حضرت عیسی کو خدا تعالی کی طرح وحدہ لا شریک سمجھتے ہیں۔وہی ہے جو مع جسم عنصری آسمان پر گیا اور وہی ہے جو کسی دن مع جسم عصری زمین پر آئے گا اور اسی نے پرندے پیدا کئے۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کافروں نے قسمیں کھا کر بار بار سوال کیا کہ آپ مع جسم عنصری آسمان پر چڑھ کر دکھلائیے ہم