تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 177 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 177

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 122 سورة بنی اسراءیل ایک آدمی۔اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ کفار نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آسمان پر چڑھنے کا نشان مانگا تھا اور انہیں صاف جواب ملا کہ یہ عادت اللہ نہیں کہ کسی جسم خاکی کو آسمان پر لے جاوے۔اب اگر جسم خاکی کے ساتھ ابن مریم کا آسمان پر جانا صحیح مان لیا جائے تو یہ جواب مذکورہ بالاسخت اعتراض کے لائق ٹھہر جائے گا اور کلام الہی میں تناقض اور اختلاف لازم آئے گا لہذا قطعی اور یقینی یہی امر ہے کہ حضرت مسیح بجسده العصری آسمان پر نہیں گئے۔بلکہ موت کے بعد آسمان پر گئے ہیں۔بھلا ہم ان لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا موت کے بعد حضرت سیمی اور حضرت آدم اور حضرت اور یں اور حضرت ابراہیم اور حضرت یوسف وغیرہ آسمان پر اٹھائے گئے تھے یا نہیں۔اگر نہیں اٹھائے گئے تو پھر کیوں کر معراج کی رات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو آسمانوں میں دیکھا اور اگر اٹھائے گئے تھے تو پھر نا حق مسیح ابن مریم کی رفع کے کیوں اور طور پر معنے کئے جاتے ہیں۔تعجب کہ توئی کا لفظ جو صریح وفات پر دلالت کرتا ہے جابجا اُن کے حق میں موجود ہے اور اٹھائے جانے کا نمونہ بھی بدیہی طور پر کھلا ہے کیونکہ وہ انہیں فوت شدہ لوگوں میں جاملے جو ان سے پہلے اٹھائے گئے تھے۔اور اگر کہو کہ وہ لوگ اٹھائے نہیں گئے تو میں کہتا ہوں کہ وہ پھر آسمان میں کیوں کر پہنچ گئے آخر اٹھائے گئے تبھی تو آسمان میں پہنچے۔کیا تم قرآن شریف میں یہ آیت نہیں پڑھتے وَ رَفَعْنَهُ مَكَانًا عَلِيًّا (مریم : ۵۸)۔کیا یہ وہی رفع نہیں ہے جو مسیح کے بارہ میں آیا ہے؟ کیا اس کے اٹھائے جانے کے معنے نہیں ہیں فانی تُصرَفُونَ (یونس : ۳۳)۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۳۸،۴۳۷) قرآن شریف صاف فرماتا ہے کہ کسی انسان کا آسمان پر چڑھ جانا عادۃ اللہ کے مخالف ہے جیسا کہ فرماتا بے قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُورٌ لیکن ہمارے مخالف حضرت عیسی کو ان کے جسم عصری کے ساتھ آسمان پر چڑھاتے ہیں۔(کتاب البریه، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۲۲۴ حاشیه ) مسیح ابن مریم کا برخلاف نصوص صریحہ کتاب اللہ کے صدہا برس آسمان پر زندگی بسر کر کے اور پھر ملائک کے گروہ میں ایک مجمع عظیم میں نازل ہونا اور سانس سے تمام کا فروں کو مارنا اور یہ نظارہ دنیا کے لوگوں کو دکھائی دینا جو ایمان بالغیب کے بھی منافی ہے در حقیقت ایسا ہی امر تھا جو نیچر اور قانون قدرت کے ماننے والے اس سے انکار کرتے۔کیونکہ اس قسم کے معجزات کی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں اور قرآن اس کا مکذب ہے جیسا کہ آیت قُلْ سُبْحَانَ رَبّی سے ظاہر ہے۔(کتاب البریه، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۲۰۷ حاشیه )