تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 178 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 178

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 12A سورة بنی اسراءیل عادت اللہ میں یہ امر داخل نہیں کہ کوئی انسان اسی جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چلا جائے اور پھر آسمان ایام اصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۷۸) سے نازل ہو۔غرض آسمان سے نازل ہونے کا بطلان نہ صرف آیت قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي سے ثابت ہوتا ہے بلکہ یہ تمام آیتیں جہاں لکھا ہے کہ جب فرشتے نازل ہوں گے تو ایمان بے فائدہ ہوگا اور وہ فیصلے کا وقت ہوگا نہ بشارت اور ایمان کا وقت بلند آواز سے پکار رہی ہیں کہ حضرت عیسی کا آسمان سے فرشتوں کے ساتھ انتر ناسراسر باطل ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۸۲،۳۸۱) ہے۔قرآن شریف میں اقتراحی نشانوں کے مانگنے والوں کو یہ جواب دیا گیا تھا کہ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كنتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولاً يعنى خدا تعالیٰ کی شان اس تہمت سے پاک ہے کہ کسی اس کے رسول یا نبی یا مہم کو یہ قدرت حاصل ہو کہ جو الوہیت کے متعلق خارق عادت کام ہیں ان کو وہ اپنی قدرت سے دکھلائے اور فرمایا کہ ان کو کہہ دے کہ میں تو صرف آدمیوں میں سے ایک رسول ہوں جو اپنی طرف سے کسی کام کے کرنے کا مجاز نہیں ہوں محض امر الہی کی پیروی کرتا ہوں۔پھر مجھ سے یہ درخواست کرنا کہ یہ نشان دکھلا اور یہ نہ دکھلا سراسر حماقت ہے جو کچھ خدا نے کہا وہی دکھلا سکتا ہوں نہ اور کچھ۔(تحفہ غز نوسیه، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۵۴۰) جب کفار بدبخت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اقتراحی معجزہ مانگا کہ ہم تب مجھے قبول کریں گے کہ جب ہمارے دیکھتے دیکھتے آسمان پر چڑھ جائے اور دیکھتے دیکھتے اتر آوے تو آپ کو حکم آیا کہ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولاً یعنی ان کو کہہ دے کہ میرا خدا اس بات سے پاک ہے کہ اپنی سنت قدیمہ اور دائمی قانون قدرت کے برخلاف کوئی بات کرے۔میں تو صرف رسول اور انسان ہوں اور جس قدر رسول دنیا میں آئے ہیں ان میں سے کسی کے ساتھ خدا تعالیٰ کی یہ عادت نہیں ہوئی کہ اس کو بجسم عنصری آسمان پر لے گیا ہو اور پھر آسمان سے اتارا ہو اور اگر عادت ہے تو تم خود ہی اس کا ثبوت دو کہ فلاں نبی بجسم عنصری آسمان پر اُٹھایا گیا تھا اور پھر اتارا گیا تب میں بھی آسمان پر جاؤں گا اور تمہارے رُوبرو اتروں گا اور اگر کوئی نظیر تمہارے پاس نہیں تو پھر کیوں ایسے امر کی نسبت مجھ سے تقاضا کرتے ہو جو رسولوں کے ساتھ سنت اللہ نہیں۔اب ظاہر ہے کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو یہ سکھلایا ہوا ہوتا کہ حضرت مسیح زندہ بجسمہ العصری آسمان پر چلے گئے ہیں تو ضرور وہ اس وقت اعتراض کرتے اور کہتے کہ یا حضرت آپ کیوں آسمان پر کسی رسول کا بجسم عنصری جانا سنت اللہ کے برخلاف بیان فرماتے ہیں حالانکہ آپ ہی نے تو ہمیں بتلایا تھا کہ حضرت مسیح آسمان پر زندہ بجسمہ العصر می چلے گئے ہیں۔(تحفہ گول و سیه روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۹۲، ۹۳)