تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 159 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 159

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۹ سورة بنی اسراءیل کرنا چاہئے کہ وہ چیز کیوں کر صنعت الہی نہ ہوگی جس کا وجود اپنے عجائبات ذاتی کے رو سے گویا تمام جزئیات عالم کی عکسی تصویر ہے اور ہر یک جزئی کے خواص عجیبہ اپنے اندر رکھتی ہے اور حکمت بالغہ ایزدی پر بوجہ اتم مشتمل ہے۔ایسی چیز جو مظہر جمیع عجائبات صنعت الہی ہے مصنوع اور مخلوق ہونے سے باہر نہیں رہ سکتی بلکہ وہ سب چیزوں سے اول درجہ پر مصنوعیت کی مہر اپنے وجود پر رکھتی ہے اور سب سے زیادہ تر اور کامل تر صانع قدیم کے وجود پر دلالت کرتی ہے سو اس دلیل سے روحوں کی مخلوقیت صرف نظری طور پر ثابت نہیں بلکہ درحقیقت اجلی بدیہات ہے۔ماسوا اس کے دوسری چیزوں کو اپنی مخلوقیت کا علم نہیں مگر روحیں فطرتی طور پر اپنی مخلوقیت کا علم رکھتی ہیں ایک جنگلی آدمی کی روح بھی اس بات پر راضی نہیں ہو سکتی کہ وہ خود بخود ہے اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالی فرماتا بے اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ - قَالُوا بَلى (الاعراف : ۱۷۳) یعنی روحوں سے میں نے سوال کیا کہ کیا میں تمہارا رب ( پیدا کنندہ) نہیں ہوں تو انہوں نے جواب دیا کہ کیوں نہیں یہ سوال وجواب حقیقت میں اس پیوند کی طرف اشارہ ہے جو مخلوق کو اپنے خالق سے قدرتی طور پر متحقق ہے جس کی شہادت روحوں کی فطرت میں نقش کی گئی ہے۔پنجم جس طرح بیٹے میں باپ اور ماں کا کچھ کچھ حلیہ اور خو بو پائی جاتی ہے اسی طرح روحیں جو خدائے تعالیٰ کے ہاتھ سے نکلی ہیں اپنے صانع کی سیرت وخصلت سے اجمالی طور پر کچھ حصہ رکھتی ہیں اگر چہ مخلوقیت کی ظلمت و غفلت غالب ہو جانے کی وجہ سے بعض نفوس میں وہ رنگ الہی کچھ پھیکا سا ہو جاتا ہے لیکن اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ ہر یک روح کسی قدر وہ رنگ اپنے اندر رکھتی ہے اور پھر بعض نفوس میں وہ رنگ بد استعمالی کی وجہ سے بدنما معلوم ہوتا ہے مگر یہ اس رنگ کا قصور نہیں بلکہ طریقہ استعمال کا قصور ہے۔انسان کی اصلی قوتوں اور طاقتوں میں سے کوئی بھی بری قوت نہیں صرف بد استعمالی سے ایک نیک قوت بری معلوم ہونے لگتی ہے۔اگر وہی قوت اپنے موقع پر استعمال کی جائے تو وہ سراسر نفع رسان اور خیر محض ہے اور حقیقت میں انسان کو جس قدر قو تیں دی گئی ہیں۔وہ سب الہی قوتوں کے اظلال و آثار ہیں۔جیسے بیٹے کی صورت میں کچھ کچھ باپ کے نقوش آ جاتے ہیں ایسا ہی ہماری روحوں میں اپنے رب کے نقوش اور اس کی صفات کے آثار آ گئے ہیں جن کو عارف لوگ خوب شناخت کرتے ہیں اور جیسے بیٹا جو باپ سے نکلا ہے اس سے ایک طبعی محبت رکھتا ہے نہ بناوٹی۔اسی طرح ہم بھی جو اپنے رب سے نکلے ہیں اس سے فی الحقیقت طبعی محبت رکھتے ہیں نہ بناوٹی اور اگر ہماری روحوں کو اپنے رب سے یہ طبعی و فطرتی تعلق نہ ہوتا تو پھر سالکین کو اس تک پہنچنے کے لئے کوئی