تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 155 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 155

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۵ سورة بنی اسراءیل ہوتے ہیں یا یوں کہو کہ بالقوہ پائے جاتے ہیں اور کبھی مکمن قوت سے جیز فعل میں آجاتے ہیں مثلاً جس اناج کو دیکھو تو بظاہر ایسا معلوم ہوگا کہ اس میں کوئی کیٹر انہیں اور پھر خود بخود اس کے اندر میں ہی سے کچھ تغیر پیدا ہو کر اس قدر کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں کہ گویا وہ سب جسم کیڑے ہی کیڑے ہیں اس سے ظاہر ہے کہ ارواح کو اجسام سے ایک لازمی اور دائمی تعلق پڑا ہوا ہے۔سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۳۵،۱۳۴ حاشیه ) روحوں اور اجزاء صغار عالم کا غیر مخلوق اور قدیم اور انادی ہونا اصول آریہ سماج کا ہے۔اور یہ اصول صریح خلاف عقل ہے اگر ایسا ہو تو پر میشر کی طرح ہر ایک چیز واجب الوجود ٹھہر جاتی ہے اور خدائے تعالیٰ کے وجود پر کوئی دلیل قائم نہیں رہتی بلکہ کاروباردین کا سب کا سب ابتر اور خلل پذیر ہوجاتا ہے کیونکہ اگر ہم سب کے سب خدائے تعالیٰ کی طرح غیر مخلوق اور انادی ہی ہیں تو پھر خدائے تعالیٰ کا ہم پر کون ساحق ہے اور کیوں وہ ہم سے اپنی عبادت اور پرستش اور شکر گزاری چاہتا ہے اور کیوں گناہ کرنے سے ہم کو سزا دینے کو طیار ہوتا ہے اور جس حالت میں ہماری روحانی بینائی اور روحانی تمام قوتیں خود بخود قدیم سے ہیں تو پھر ہم کو فانی قوتوں کے پیدا ہونے کے لئے کیوں پر میٹر کی حاجت ٹھہری۔سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۱۰) آریہ صاحبوں کا اعتقاد ہے کہ پر میشر نے کوئی روح پیدا نہیں کی بلکہ کل ارواح انادی اور قدیم اور غیر مخلوق ہیں ایسا ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مکتی یعنی نجات ہمیشہ کے لئے انسان کو نہیں مل سکتی بلکہ ایک مدت مقررہ تک سکتی خانہ میں رکھ کر پھر اس سے باہر نکالا جاتا ہے۔اب ہمارا اعتراض یہ ہے کہ یہ دونوں اعتقاد ایسے ہیں کہ ایک کے قائم ہونے سے تو خدائے تعالیٰ کی توحید بلکہ اس کی خدائی ہی دور ہوتی ہے اور دوسرا اعتقاد ایسا ہے کہ بندہ وفادار پر ناحق کی سختی ہوتی ہے تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ اگر تمام ارواح کو اور ایسا ہی اجزاء صغار اجسام کو قدیم اور انادی مانا جائے تو اس میں کئی قباحتیں ہیں منجملہ ان کے ایک تو یہ کہ اس صورت میں خدائے تعالیٰ کے وجود پر کوئی دلیل قائم نہیں ہو سکتی کیونکہ جس حالت میں بقول آریہ صاحبان ارواح یعنی جیو خود بخود موجود ہیں اور ایسا ہی اجزاء صغار اجسام بھی خود بخود ہیں تو پھر صرف جوڑنے جاڑنے کے لئے ضرورت صانع کی ثابت نہیں ہوسکتی بلکہ ایک دہر یہ جو خدائے تعالیٰ کا منکر ہے عذر پیش کر سکتا ہے کہ جس حالت میں تم نے کل چیزوں کا وجود خود بخو د بغیر ایجاد پر میشر کے آپ ہی مان لیا ہے تو پھر اس بات پر کیا دلیل ہے کہ ان چیزوں کے باہم جوڑنے جاڑنے کے لئے پر میشر کی حاجت ہے؟ دوسری یہ قباحت کہ ایسا اعتقاد خود خدائے