تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 154
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۴ سورة بنی اسراءیل اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ خارجی طور پر باطل کو شکست دیوے چنانچہ دوسری جگہ آیا ہے جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ اور خود اس آیت میں بھی فرمایا ہے لِيُظهِرَهُ عَلَى الدِّينِ محله (الصف:۱۰) یعنی اس رسول کی آمد کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ حق کو غلبہ دے گا یہ غلبہ تلوار اور تفنگ سے نہیں ہوگا بلکہ وجوہ عقلیہ سے ہوگا۔انتقام جلد ۶ نمبر ۱۳ مورخه ۱۰ را پریل ۱۹۰۲ صفحه ۶) جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ۔۔۔۔قرآن شریف میں بھی یہ آیت بتوں کے ٹوٹنے اور اسلام کے غلبہ کے ( بدر جلد نمبر ۳ مورخه ۲۰ را پریل ۱۹۰۵ صفحه ۲) واسطے آتی ہے۔قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ ، فَرَتْكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ أَهْدَى سَبِيلًا محن يَعْمَلُ عَلى شاكلته یعنی هر یک شخص اپنی فطرت کے موافق عمل کرتا ہے۔) ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۸۹ حاشیه ) ہر ایک اپنے قومی اور اشکال کے موافق عمل کرنے کی توفیق دیا جاتا ہے۔ہر شخص اپنے مادہ اور فطرت کے مطابق عمل کر رہا ہے۔(جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۷۸) ( مکتوبات جلد ۵ نمبر ۵ صفحه ۲۰۱) یہ سچ ہے کہ سب انسان ایک مزاج کے نہیں ہوتے اسی لئے قرآن شریف میں آیا ہے كُل يَعْمَلُ عَلَى شاكلته بعض آدمی ایک قسم کے اخلاق میں اگر عمدہ ہیں تو دوسرے قسم میں کمزور۔اگر ایک خُلق کا رنگ اچھا ہے تو دوسرے کا بُرا۔لیکن تاہم اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اصلاح ناممکن ہے۔البدر جلد ۳ نمبر ۳۴ مورخه ۸ ستمبر ۱۹۰۴ ء صفحه ۴) ہر شخص اپنے قومی کے موافق کام کرتا ہے۔الحکم جلد ۹ نمبر ۴۳ مورخه ۱۰؍دسمبر ۱۹۰۵ء صفحه ۳) وَ يَسْتَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّي وَ مَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قليلا ہر یک جسم میں جتنے ذرات ہیں اسی قدر روحوں کا اس سے تعلق ہے اگر ایک قطرہ پانی کو خورد بین سے دیکھا جائے تو ہزاروں کیڑے اس میں نظر آتے ہیں ویسا ہی پھلوں میں اور بوٹیوں میں اور ہوا میں بھی کیڑے مشہود و محسوس ہیں۔بہر حال ہر یک جسم دار چیز کیڑوں سے بھری ہوئی ہے مگر کبھی وہ کیڑے مخفی