تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 153 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 153

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۳ سورة بنی اسراءیل الوہیت ہیں اور ان کا کلام خدا کا کلام اور ان کا ظہور خدا کا ظہور اور ان کا آنا خدا کا آنا ہے چنانچہ قرآن شریف میں اس بارے میں ایک یہ آیت بھی ہے قُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا - که حق آیا اور باطل بھاگ گیا اور باطل نے بھا گنا ہی تھا۔حق سے مراد اس جگہ اللہ جل شانہ اور قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اور باطل سے مراد شیطان اور شیطان کا گروہ اور شیطانی تعلیمیں ہیں سو دیکھو اپنے نام میں خدائے تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کیوں کر شامل کر لیا اور آنحضرت کا ظہور فرما ناخدا تعالیٰ کا ظہور فرمانا ہوا ایسا جلالی ظہور جس سے شیطان معہ اپنے تمام لشکروں کے بھاگ گیا اور اس کی تعلیمیں ذلیل اور حقیر ہوگئیں اور اس کے گروہ کو بڑی بھاری شکست آئی۔اسی جامعیت تامہ کی وجہ سے سورة ال عمران جزو تیسری میں مفصل یہ بیان ہے کہ تمام نبیوں سے عہد و اقرار لیا گیا کہ تم پر واجب و لازم ہے کہ عظمت و جلالیت شان خاتم الرسل پر جو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ایمان لاؤ اور ان کی اس عظمت اور جلالیت کی اشاعت کرنے میں بدل و جان مدد کرو۔اسی وجہ سے حضرت آدم صفی اللہ سے لے کرتا حضرت مسیح کلمتہ اللہ جس قدر نبی و رسول گزرے ہیں وہ سب کے سب عظمت و جلالیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اقرار کرتے آئے ہیں۔سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۷ ۲۷ تا ۲۸۰ حاشیه ) حق آیا اور باطل بھاگ گیا اور باطل بھاگنے والا ہی ہے۔(آسمانی فیصلہ، روحانی خزائن جلد ۴ ائیل پیج ) اور حق آیا اور باطل بھاگ گیا اور باطل کب حق کے مقابل ٹھہر سکتا تھا۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۷۹) حق آیا اور باطل بھاگ گیا اور باطل نے ایک دن بھا گنا ہی تھا۔تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۲۶۶ حاشیه ) (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۷۳) کہ حق آیا اور باطل بھاگ گیا۔آیا حق اور بھاگ گیا باطل تحقیق باطل ہے بھاگنے والا۔( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ ۱۲۲) هُوَ الَّذِى اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُله (الصف :١٠) پر سوچتے سوچتے مجھے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں دو لفظ ھڈی اور حق کے رکھے ہیں۔ھذہی تو یہ ہے کہ اندر روشنی پیدا کرے معمہ نہ رہے یہ گویا اندرونی اصلاح کی طرف اشارہ ہے جو مہدی کا کام ہے اور حق کا لفظ