تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 148 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 148

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۸ سورۃ بنی اسراءیل سکتا ہوں۔دیکھو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ كَانَ فِي هَذِةِ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْلَى وَأَضَلُّ سَبِيلًا انبياء تو علی وجہ البصیرہ ہوتے ہیں پس جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ وہ بصیرت کسی کو نہیں ملے گی تو گویا یہ خود اس دنیا سے اندھے ہی جاویں گے۔الحکم جلد ۸ نمبر ۳۸ ۳۹ مورخه ۰ او۱۷ نومبر ۱۹۰۴ء صفحه ۷) اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس جہان کے لئے انسان اسی عالم سے حواس لے جاتا ہے۔اس جگہ سے وہ بصارت لے جاتا ہے جو وہاں کی اشیاء اور عجائبات کو دیکھے اور یہاں ہی سے وہ شنوائی لے جاتا ہے جو سُنے۔گویا جو اس جہان میں وہاں کی باتیں دیکھتا اور سنتا نہیں وہ وہاں بھی نہیں دیکھ سکے گا۔القام جلد ۹ نمبر ۲۹ مورخه ۱۷اراگست ۱۹۰۵ صفحه ۵) قرآن شریف کی تعلیم کا خلاصہ مغز کے طور پر یہی بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت اس قدر استیلا کرے کہ ما سوی اللہ جل جاوے۔یہی وہ عمل ہے جس سے گناہ جلتے ہیں اور یہی وہ نسخہ ہے جو اسی عالم میں انسان کو وہ حواس اور بصیرت عطا کرتا ہے جس سے وہ اس عالم کی برکات اور فیوض کو اس عالم میں پاتا ہے اور معرفت اور بصیرت کے ساتھ یہاں سے رخصت ہوتا ہے۔ایسے ہی لوگ ہیں جو اس زمرہ سے الگ ہیں۔مَنْ كَانَ فِي هذِةٍ أَغْلِى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَغْلِى - الحکم جلد ۹ نمبر ۳۵ مورخه ۱۰/اکتوبر ۱۹۰۵ صفحه ۸) اس کے یہ معنے نہیں کہ جو لوگ یہاں نابینا اور اندھے ہیں وہ وہاں بھی اندھے ہوں گے۔نہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ دیدار الہی کے لئے یہاں سے حواس اور آنکھیں لے جاوے اور ان آنکھوں کے لئے ضرورت ہے قتل کی۔تزکیہ نفس کی اور یہ کہ خدا تعالیٰ کو سب پر مقدم کرو اور خدا تعالیٰ کے ساتھ دیکھو، سُنو اور بولو! اس کا نام فنافی اللہ ہے اور جب تک یہ مقام اور درجہ حاصل نہیں ہوتا نجات نہیں۔احکم جلد ۹ نمبر ۳۵ مورخه ۱۰ ۷ اکتوبر ۱۹۰۵ صفحه ۱۰) جب یہ یقین کر لیا گیا کہ اللہ تعالیٰ سے مکالمہ کا شرف ملنے کا ہی نہیں اور خوارق اب دیئے ہی نہیں جاسکتے تو پھر مجاہدہ اور دعا جو اس کے لئے ضروری ہیں محض بیکار ہوں گے اور اس کے لئے کوئی جرات نہ کرے گا اور اس امت کے لئے نعوذ بالله مَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ اَعْلی صادق آئے گا اور اس سے خاتمہ کا بھی پتہ لگ جائے گا کہ وہ کیسا ہوگا کیونکہ اس میں تو کوئی شک و شبہ ہی نہیں ہوسکتا کہ یہ جہنمی زندگی ہے پھر آخرت میں بھی جہنم ہی ہوگا اور اسلام ایک جھوٹا مذہب ٹھیرے گا اور نعوذ باللہ خدا نے بھی اس امت کو دھوکا دیا که خیر الامت بنا کر پھر کچھ بھی اسے نہ دیا۔اقام جلد ۹ نمبر ۳۸ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۵ صفحه ۶)