تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 149 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 149

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۹ سورة بنی اسراءیل اس نابینائی سے یہی مراد ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی تجلی اور ان امور کو جو حالت غیب میں ہیں اسی عالم میں سدو مشاہدہ نہ کرے اور یہ نا بینائی کا کچھ حصہ غیب والے میں پایا جاتا ہے لیکن هُدًى لِلْمُتَّقِينَ کے موافق جو شخص ہدایت پالیتا ہے اس کی وہ نابینائی دور ہو جاتی ہے اور وہ اس حالت سے ترقی کر جاتا ہے۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲ مورخه ۷ ارجنوری ۱۹۰۶ صفحه ۵) ظاہراً تو اس کے معنے یہی ہیں کہ جو اس جگہ اندھے ہیں وہ آخرت کو بھی اندھے ہی رہیں گے مگر یہ معنے کون قبول کرے گا جبکہ دوسری جگہ پر صاف طور پر لکھا ہے کہ خواہ کوئی سوجا کھا ہو خواہ اندھا جو ایمان اور اعمال صالحہ کے ساتھ جاوے گا وہ تو ہینا ہو گا لیکن جو اس جگہ ایمانی روشنی سے بے نصیب رہے گا اور خدا کی معرفت حاصل نہیں کر لے گا وہ آخر کو بھی اندھا ہی رہے گا کیونکہ یہ دنیا مزرعہ آخرت ہے جو کچھ کوئی یہاں بوئے گا وہی کاٹے گا اور جو اس جگہ سے بینائی لے جائے گا وہی بینا ہو گا۔الحاکم جلد ۱۲ نمبر ا مورخه ۲ جنوری ۱۹۰۸ صفحه ۲) جو شخص اس دنیا میں اندھا ہے وہ آخرت میں بھی اندھا ہی ہوگا۔یعنی خدا کے دیکھنے کے حواس اور نجات ابدی کا سامان اسی دنیا سے انسان ساتھ لے جاتا ہے۔(چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۱۶) إِذَا لَّا ذَقْنَكَ ضِعُفَ الْحَيوةِ وَضِعُفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيْنَا نَصِيرًا اگر یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پر کچھ جھوٹ باندھتا تو ہم اس کو زندگی اور موت سے دو چند عذاب چکھاتے اس سے مراد یہ ہے کہ نہایت سخت عذاب سے ہلاک کرتے۔اربعین ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۴۳۰ حاشیه ) اقِمِ الصَّلوةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلى غَسَقِ الَّيْلِ وَ قُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًان نماز کیا چیز ہے وہ دعا ہے جو تسبیح تحمید تقدیس اور استغفار اور درود کے ساتھ تضرع سے مانگی جاتی ہے۔سو جب تم نماز پڑھو تو بے خبر لوگوں کی طرح اپنی دعاؤں میں صرف عربی الفاظ کے پابند نہ رہو کیونکہ ان کی نماز اور ان کا استغفار سب رسمیں ہیں جن کے ساتھ کوئی حقیقت نہیں لیکن تم جب نماز پڑھو تو بجر قرآن کے جو