تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 145
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۵ سورۃ بنی اسراءیل وہ جو اس دنیا میں کچھ نہیں پاتا اور آئندہ جنت کی امید کرتا ہے وہ طمع خام کرتا ہے اصل میں وہ مَنْ كَانَ في هذة أعلى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَغْنی کا مصداق ہے۔احکام جلد ۶ نمبر ۲۶ مورخہ ۲۴/ جولائی ۱۹۰۲ صفحه ۹) جو شخص اس جہان میں اندھا ہو وہ اس دوسرے جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا بلکہ اندھوں سے بھی بدتر۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو دیکھنے کی آنکھیں اور اس کے دریافت کرنے کے حواس اسی جہان سے انسان اپنے ساتھ لے جاتا ہے جو یہاں ان جو اس کو نہیں پاتا وہاں وہ ان حواس سے بہرہ ور نہیں ہو گا۔یہ ایک دقیق راز ہے جس کو عام لوگ سمجھ بھی نہیں سکتے۔اگر اس کے یہ معنی نہیں تو یہ تو پھر بالکل غلط ہے کہ اندھے اس جہان میں بھی اندھے ہوں گے۔اصل بات یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کو بغیر کسی غلطی کے پہنچاننا اور اسی دنیا میں صحیح طور پر اس کی صفات و اسماء کی معرفت حاصل کرنا آئندہ کی تمام راحتوں اور روشنیوں کی کلید ہے اور یہ آیت اس امر کی طرف صاف اشارہ کر رہی ہے کہ اسی دنیا سے ہم عذاب اپنے ساتھ لے جاتے ہیں اور اس دنیا کی کورانہ زیست اور ناپاک افعال ہی اس دوسرے عالم میں عذاب جہنم کی صورت میں نمودار ہو جائیں گے اور وہ کوئی نئی بات نہ ہوں گے۔الحکم جلد ۶ نمبر ا مورخه ۱۰رجنوری ۱۹۰۲ صفحه ۴) جو اس جہان میں اندھا ہے وہ اس جہان میں بھی اندھا ہے جس کی منشاء یہ ہے کہ اس جہان کے مشاہدہ کے لئے اسی جہان سے ہم کو آنکھیں لے جانی ہیں۔آئندہ جہان کو محسوس کرنے کے لئے حواس کی تیاری اسی جہان میں ہوگی پس کیا یہ گمان ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ وعدہ کرے اور پورا نہ کرے۔اندھے سے مراد وہ ہے جو روحانی معارف اور روحانی لذات سے خالی ہے۔ایک شخص کورانہ تقلید سے کہ مسلمانوں کے گھر پیدا ہو گیا مسلمان کہلاتا ہے دوسری طرف اسی طرح ایک عیسائی عیسائیوں کے ہاں پیدا ہو کر عیسائی ہو گیا۔یہی وجہ ہے کہ ایسے شخص کو خدا، رسول اور قرآن کی کوئی عزت نہیں ہوتی اس کی دین سے محبت بھی قابل اعتراض ہے خدا اور رسول کی ہتک کرنے والوں میں سے اس کا گزر ہوتا ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ایسے شخص کی روحانی آنکھ نہیں اس میں محبت دین نہیں۔والا محبت والا اپنے محبوب کے برخلاف کیا کچھ پسند کرتا ہے؟ الحکم جلدے نمبر ۲۲ مورخہ ۱۷رجون ۱۹۰۳ء صفحه ۶) جو شخص اس دنیا میں خدا کے دیکھنے سے بے نصیب ہے وہ قیامت کو بھی محروم ہی ہو گا جیسے خدا نے خود فرمایا ہے مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ اعلیٰ اس سے یہ مراد تو نہیں ہو سکتی کہ جو اس دنیا میں اندھے