تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 144 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 144

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۴ سورة بنی اسراءیل مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَعْرِفْ إِمَامَ زَمَانِهِ فَقَدْ مَاتَ مِيْتَةَ الْجَاهِلِيَّةِ یعنی جس شخص نے اپنے زمانہ کے امام کو شناخت نہ کیا وہ جاہلیت کی موت پر مر گیا اور صراط مستقیم سے بے نصیب رہا۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۵۱) اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ جو شخص اس جہان میں اندھا ہے وہ دوسرے جہان میں بھی اندھا ہی ہو گا یعنی جس کو خدا کا دیدار اس جگہ نہیں اُس جگہ بھی نہیں۔اس آیت کے یہ معنے نہیں ہیں کہ جو بیچارے جسمانی طور پر اس جہان میں اندھے ہیں وہ دوسرے جہان میں بھی اندھے ہی ہوں گے۔پس یہ استعارہ ہے کہ جاہل کا نام اندھا رکھا گیا۔برائن احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۶۱ حاشیه ) جو شخص اس دنیا میں اندھا ہوگا وہ دوسرے جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا یہ بھی ایک پیشگوئی ہے مگر اس کے وہ معنے نہیں ہیں جو ظاہر الفاظ سے سمجھے جاتے ہیں۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۵۵) انسان۔۔تمنار کھے کہ وہ بھی ان لوگوں میں سے ہو جاوے جو ترقی اور بصیرت حاصل کر چکے ہیں۔ایسا نہ ہو کہ اس جہان سے بے بصیرت اور اندھا اٹھایا جاوے چنانچہ فرمایا مَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أغلى الأيہ کہ جو اس جہان میں اندھا ہے وہ اس جہان میں بھی اندھا ہے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۳۹) جب تک انسان پوری روشنی اسی جہان میں نہ حاصل کرلے وہ کبھی خدا کا منہ نہ دیکھے گا۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۴۴) مومن کا معراج اور کمال یہی ہے کہ وہ علماء کے درجہ پر پہنچے اور وہ حق الیقین کا مقام اسے حاصل ہو جو علم کا انتہائی درجہ ہے لیکن جو شخص علوم حقہ سے بہرہ ور نہیں ہیں اور معرفت اور بصیرت کی راہیں ان پر کھلی ہوئی نہیں ہیں وہ خود عالم کہلائیں مگر علم کی خوبیوں اور صفات سے بالکل بے بہرہ ہیں اور وہ روشنی اور نور جو حقیقی علم سے ملتا ہے ان میں پایا نہیں جاتا بلکہ ایسے لوگ سراسر خسارہ اور نقصان میں ہیں۔یہ اپنی آخرت دُخان اور تاریکی سے بھر لیتے ہیں۔انہیں کے حق میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْلَى جو اس دنیا میں اندھا ہوتا ہے وہ آخرت میں بھی اندھا اٹھایا جاوے گا جس کو یہاں علم و بصیرت اور معرفت نہیں دی گئی اسے وہاں کیا علم ملے گا۔اللہ تعالیٰ کو دیکھنے والی آنکھ اسی دنیا سے لے جانی پڑتی ہے جو یہاں ایسی آنکھ پیدا نہیں کرتا اسے یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ اللہ تعالی کو دیکھے گا۔الحکم جلد ۹ نمبر ۱۰ مورخه ۲۴ مارچ ۱۹۰۵ صفحه ۵)