تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 129 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 129

۱۲۹ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة بنی اسراءیل اور تبشیر کے نشانوں میں ایک لطف یہ ہوتا ہے کہ جیسے مومن ان کے نزول سے یقین اور معرفت اور قوت ایمان میں ترقی کرتا ہے ایسا ہی وہ بوجہ مشاہدہ آلاء و نعماء الہی و احسانات ظاہره و باطنه وجلسیه وخفیہ حضرت باری عزاسمہ جو تبشیر کے نشانوں میں بھرے ہوئے ہوتے ہیں محبت و عشق میں بھی دن بدن بڑھتا جاتا ہے۔سو حقیقت میں عظیم الشان اور قوی الاثر اور مبارک اور موصل الی المقصود بشیر کے نشان ہی ہوتے ہیں جو سالک کو معرفتِ کاملہ اور محبت ذاتیہ کے اس مقام تک پہنچا دیتے ہیں جو اولیاء اللہ کے لئے منتہی المقامات ہے اور قرآن شریف میں تبشیر کے نشانوں کا بہت کچھ ذکر ہے یہاں تک کہ اس نے اُن نشانوں کو محدود نہیں رکھا بلکہ ایک دائی وعدہ دے دیا ہے کہ قرآن شریف کے بچے متبع ہمیشہ ان نشانوں کو پاتے رہیں گے جیسا کہ وہ فرماتا ہے لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَتِ اللهِ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (یونس : ۶۵) یعنی ایماندار لوگ دنیوی زندگی اور آخرت میں بھی تبشیر کے نشان پاتے رہیں گے۔جن کے ذریعے سے وہ دنیا اور آخرت میں معرفت اور محبت کے میدانوں میں نا پیدا کنار ترقیاں کرتے جائیں گے۔یہ خدا کی باتیں ہیں جو کبھی نہیں نکلیں گی اور تبشیر کے نشانوں کو پالینا یہی فوز عظیم ہے (یعنی یہی ایک امر ہے جو محبت اور معرفت کے منتہی مقام تک پہنچا دیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔اگر خدائے تعالیٰ کے کل نشانوں کو قہری نشانوں میں ہی محصور سمجھ کر اس آیت کے یہ معنی کئے جائیں کہ ہم تمام نشانوں کو محض تخویف کی غرض سے ہی بھیجا کرتے ہیں اور کوئی دوسری غرض نہیں ہوتی۔تو یہ معنی بہ بداہت باطل ہیں۔جیسا کہ ابھی بیان ہو چکا ہے کہ نشان دو غرضوں سے بھیجے جاتے ہیں یا تخویف کی غرض سے یا تبشیر کی غرض سے۔انہیں دو قسموں کو قرآن شریف اور بائیل بھی جابجا ظاہر کر رہی ہے۔پس جب کہ نشان دو قسم کے ہوئے تو آیت ممدوحہ بالا میں جو لفظ الآیات ہے (جس کے معنی وہ نشانات ) بہر حال اسی تاویل پر بصحت منطبق ہوگا کہ نشانوں سے قہری نشان مراد ہیں کیونکہ اگر یہ معنی نہ لئے جائیں تو پھر اس سے یہ لازم آتا ہے کہ تمام نشانات جو تحت قدرت الہی داخل ہیں۔تخویف کی قسم میں ہی محصور ہیں حالانکہ فقط تخویف کی قسم میں ہی سارے نشانوں کا حصر سمجھنا سراسر خلاف واقعہ ہے کہ جو نہ کتاب اللہ کی رو سے اور نہ عقل کی رو سے اور نہ کسی پاک دل کے کانشنس کی رو سے درست ہو سکتا ہے۔اب چونکہ اس بات کا صاف فیصلہ ہو گیا کہ نشانوں کی دو قسموں میں سے صرف تخویف کے نشانوں کا آیات موصوفہ بالا میں ذکر ہے تو یہ دوسرا امر تنقیح طلب باقی رہا کہ کیا اس آیت کے (جو مَا مَنَعَنَا الخ ہے )