تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 130
١٣٠ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة بنی اسراءیل یہ معنی سمجھنے چاہئیں کہ تخویف کا کوئی نشان خدائے تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر ظاہر نہیں کیا یا یہ معنی سمجھنے چاہئیں کہ تخویف کے نشانوں میں سے وہ نشان ظاہر نہیں کئے گئے جو پہلی امتوں کو دکھلائے گئے تھے اور یا یہ تیسرے معنی قابل اعتبار ہیں کہ دونوں قسم کے تخویف کے نشان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے ظاہر ہوتے رہے ہیں۔بجز اُن خاص قسم کے بعض نشانوں کے جن کو پہلی امتوں نے دیکھ کر جھٹلا دیا تھا اور ان کو معجز نہیں سمجھا تھا۔سو واضح ہو کہ آیات متنازعہ فیہا پر نظر ڈالنے سے تمام تر صفائی کھل جاتا ہے کہ پہلے اور دوسرے معنی کسی طرح درست نہیں۔کیونکہ آیت ممدوحہ بالا کے یہ سمجھ لینا کہ تمام انواع و اقسام کے وہ تخویفی نشان جو ہم بھیج سکتے ہیں اور تمام وہ وراء الوراء تعذیبی نشان جن کے بھیجنے پر غیر محد و دطور پر ہم قادر ہیں اس لئے ہم نے نہیں بھیجے کہ پہلی امتیں اُس کی تکذیب کر چکی ہیں۔یہ معنے سراسر باطل ہیں۔کیونکہ ظاہر ہے کہ پہلی اُمتوں نے انہیں نشانوں کی تکذیب کی جو انہوں نے دیکھے تھے وجہ یہ کہ تکذیب کے لئے یہ ضرور ہے کہ جس چیز کی تکذیب کی جائے۔اوّل اس کا مشاہدہ بھی ہو جائے۔جس نشان کو ابھی دیکھا ہی نہیں اس کی تکذیب کیسی حالانکہ نادیدہ نشانوں میں سے ایسے اعلیٰ درجہ کے نشان بھی تحت قدرت باری تعالی ہیں جس کی کوئی انسان تکذیب نہ کر سکے اور سب گردنیں اُن کی طرف جھک جائیں۔کیونکہ خدائے تعالیٰ ہر ایک رنگ کا نشان دکھلانے پر قادر ہے اور پھر چونکہ نشان ہائے قدرت باری تعالی غیر محدود اور غیر متناہی ہیں تو پھر یہ کہنا کیوں کر درست ہو سکتا ہے کہ محدود زمانہ میں وہ سب دیکھے بھی گئے اور ان کی تکذیب بھی ہو گئی۔وقت محدود میں تو وہی چیز دیکھی جائے گی جو محدود ہوگی۔بہر حال اس آیت کے یہی معنی سیج ہوں گے کہ جو بعض نشانات پہلے کفار دیکھ چکے تھے اور ان کی تکذیب کر چکے تھے۔ان کا دوبارہ بھیجنا عبث سمجھا گیا۔جیسا کہ قرینہ بھی انہیں معنوں پر دلالت کرتا ہے یعنی اس موقعہ پر جو ناقہ شمود کا خدائے تعالیٰ نے ذکر کیا ہے وہ ذکر ایک بھاری قرینہ اس بات پر ہے کہ اس جگہ گزشتہ اور رڈ کردہ نشانات کا ذکر ہے جو تخویف کے نشانوں میں سے تھے اور یہی تیسرے معنی ہیں جو صحیح اور درست ہیں۔پھر اس جگہ ایک اور بات منصفین کے سوچنے کے لائق ہے جس سے اُن پر ظاہر ہوگا کہ آیت وَ مَا مَنَعَنَا آن ترسل بالأيتِ الخ سے ثبوت معجزات ہی پایا جاتا ہے نہ فی معجزات کیونکہ الأیت کے لفظ پر جو الف لام واقعہ ہے وہ بموجب قواعد نحو کے دوصورتوں سے خالی نہیں۔یا کل کے معنے دے گا یا خاص کے اگر کل کے