تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 121
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۱ سورۃ بنی اسراءیل دریاؤں اور سمندروں کا قطرہ قطرہ اور درختوں اور بوٹیوں کا پات پات اور ہر ایک جز اُن کا اور انسان اور حیوانات کے کل ذرات خدا کو پہچانتے ہیں اور اس کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کی تحمید و تقدیس میں (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۲، ۳۳) مشغول ہیں۔خدا تعالیٰ نے جو ملائکہ کی تعریف کی ہے وہ ہر ایک ذرہ ذرہ پر صادق آسکتی ہے جیسے فرمایا: ان من شَيْءٍ الا يُسَبِّحْ بِحَمدِ۔۔۔ہر ایک ذرہ ملائکہ میں داخل ہے۔الحکم جلد نمبر ۱۵ مورخه ۱/۲۴ پریل ۱۹۰۳ صفحه ۹) یہ ہوا ، پانی ، آگ وغیرہ بھی ایک طرح کے ملائکہ ہی ہیں۔ہاں بڑے بڑے ملائکہ وہ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے نام لیا۔مگر اس کے سوا باقی اشیاء مفید بھی ملائکہ ہی ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے کلام سے اس کی تصدیق ہوتی ہے جہاں فرماتا ہے کہ وَ اِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ الخ یعنی کل اشیاء خدا تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہیں۔تسبیح کے معنے یہی ہیں کہ جو خدا ان کو حکم کرتا ہے اور جس طرح اس کا منشا ہوتا ہے وہ اسی طرح کرتے ہیں اور ہر ایک امر اس کے ارادے اور منشا سے واقع ہوتا ہے۔اتفاقی طور سے دنیا میں کوئی چیز نہیں اگر خدا تعالیٰ کا ذرہ ذرہ پر تصرف تام اور اقتدار نہ ہو تو وہ خدا ہی کیا ہوا اور دعا کی قبولیت کی اس سے کیا امید ہو سکتی ہے درحقیقت یہی ہے کہ وہ ہوا کو جدھر چاہے اور جب چاہے چلا سکتا ہے اور جب ارادہ کرے بند کر سکتا ہے۔اس کے ہاتھ میں پانی اور پانیوں کے سمندر ہیں جب چاہے جوش زن کر دے اور جب چاہے ساکن کر دے۔وہ ذرہ ذرہ پر قادر اور مقتدر خدا ہے اس کے تصرف سے کوئی چیز باہر نہیں۔وہ جنہوں نے دعا سے انکار ہی کر دیا ہے ان کو بھی یہی مشکلات پیش آئے ہیں کہ انہوں نے خدا کو ہر ذرہ پر قادر مطلق نہ جانا اور اکثر واقعات کو اتفاقی مانا۔اتفاق کچھ بھی نہیں بلکہ جو ہوتا ہے اور اگر پتہ بھی درخت سے گرتا ہے تو وہ بھی خدا کے ارادے اور حکمت سے گرتا ہے اور یہ سب ملائکہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کے حکم کے اشارے سے کام کرتے ہیں اور ان کی خدمت میں لگائے جاتے ہیں جو خدا کے بچے فرماں بردار اور اس کی رضا کے خواہاں ہوتے ہیں۔جو خدا کا بن جاتا ہے اسے خدا سب کچھ عطا کرتا ہے۔جے توں میرا ہور ہیں سب جگ تیرا ہو مَنْ كَانَ لِلَّهِ كَانَ اللهُ لَهُ پھر ایسے مرتبے کے بعد انسان کو وہ رعیت ملتی ہے کہ باغی نہیں ہوتی۔دنیوی