تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xiv of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page xiv

صفحه xiii مضمون منکرین الہام کی محبت کا جواب کہ اگر الہام حق اور صحیح ہے تو صحابہ جناب پیغمبر خدا اس کے پانے کے لیے احق اور اولی تھے حالانکہ ان کا پانامتحقق نہیں یہ الزام کہ صحابہ کرام سے الہامات ثابت نہیں ہوئے بالکل بے جا اور غلط ہے پلیدوں کے عذاب پر خدا پروا نہیں کرتا کہ ان کے بیوی بچوں کا کیا حال ۲۰۳ ۲۰۴ ہوگا اور راستبازوں کے لئے كَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا کی رعایت کرتا ہے ۲۰۷ اس وحی الہی کی رو سے کہ جری اللہ فی حلل الانبیاء اس امت کے لیے ۲۰۹ ۲۰۹ ۲۱۰ ۲۱۱ ۲۱۳ ۲۱۶ ۲۱۸ ۲۲۲ ذوالقرنین میں ہوں اس قصہ میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ ذوالقرنین نے تین قو میں پائیں اول وہ جو غروب آفتاب کے پاس ہے اور کیچڑ میں ہے اس سے مراد عیسائی قوم ہے دوسری قوم وہ ہے جو آفتاب کے پاس ہے اور جھلسنے والی دھوپ ہے یہ مسلمانوں کی موجودہ حالت ہے تیسری وہ قوم ہے جس نے اس سے فریاد کی کہ ہم کو یا جوج ماجوج سے بچا یہ ہماری قوم ہے جو مسیح موعود کے پاس آئی ذوالقرنین کا مطلب ہے دو صدیاں پانے والا مفتی صاحب نے ۱۶ یاے اصدیاں جمع کر کے دکھائی تھیں وہ ذوالقرنین جس کا ذکر قرآن شریف میں ہے اور ہے اور سکندر رومی اور شخص ہے اس سوال کا جواب قرآن شریف میں لکھا ہے کہ ذوالقرنین نے آفتاب کو دلدل میں غروب ہوتے پایا نمبر شمار ۱۰۵ 201 ۱۰۷ ۷۰۱ ۱۰۹ ۱۱۰ ۱۱۲ ۱۱۳ ۱۱۴ ۱۱۵