تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 94 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 94

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۴ سورة النحل جانیں بچائی جاتی ہیں۔ایک شخص جو اولیاء اللہ میں سے تھے ان کا ذکر ہے کہ وہ جہاز میں سوار تھے سمندر میں طوفان آگیا قریب تھا کہ جہاز غرق ہو جاتا اس کی دعا سے بچا لیا گیا اور دعا کے وقت اس کو الہام ہوا کہ تیری خاطر ہم نے سب کو بچا لیا مگر یہ باتیں نر از بانی جمع خرچ کرنے سے حاصل نہیں ہوتیں۔دیکھو ہمیں بھی اللہ تعالیٰ نے ایک وعدہ دیا ب إِنِّي أَحَافِظ كُلَّ مَن في الدار مگر دیکھو ان میں غافل عورتیں بھی ہیں۔مختلف طبائع اور حالات کے انسان ہیں۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۶ مورخه ۲ / مارچ ۱۹۰۸ء صفحه ۶،۵) میں پھر جماعت کو تاکید کرتا ہوں کہ تم لوگ ان کی مخالفتوں سے غرض نہ رکھو۔تقومی طہارت میں ترقی کرو تو اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہوگا اور ان لوگوں سے وہ خود سمجھ لیوے گا۔وہ فرماتا ہے إِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوا وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ البدر جلد ۳ نمبر ۳۵ مورخه ۱۶ ستمبر ۱۹۰۴ صفحه ۱) تقومی کیا ہے؟ ہر قسم کی بدی سے اپنے آپ کو بچانا۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابرار کے لئے پہلا انعام شربت کا فوری ہے۔اس شربت کے پینے سے دل برے کاموں سے ٹھنڈے ہو جاتے ہیں اس کے بعد ان کے دلوں میں برائیوں اور بدیوں کے لئے تحریک اور جوش پیدا نہیں ہوتا۔ایک شخص کے دل میں یہ خیال تو آجاتا ہے کہ یہ کام اچھا نہیں یہاں تک کہ چور کے دل میں بھی یہ خیال آہی جاتا ہے مگر جذ بہ دل سے وہ چوری بھی کر ہی لیتا ہے لیکن جن لوگوں کو شربت کا فوری پلا دیا جاتا ہے ان کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ ان کے دل میں بدی کی تحریک ہی پیدا نہیں ہوتی بلکہ دل برے کاموں سے بیزار اور منتظر ہو جاتا ہے۔گناہ کی تمام تحریکوں کے مواد د با دیئے جاتے ہیں۔یہ بات خدا کے فضل کے سوا میسر نہیں آتی۔جب انسان دعا اور عقد ہمت سے خدا تعالیٰ کے فضل کو تلاش کرتا ہے اور اپنے نفس کو جذبات پر غالب آنے کی سعی کرتا ہے تو پھر یہ نے یہ سب باتیں فضل الہی کو کھینچ لیتی ہیں اور اسے کا فوری جام پلایا جاتا ہے۔۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ (المائدة : ۲۸) یعنی بیشک اللہ تعالیٰ متقیوں ہی کی عبادات کو قبول فرماتا ہے یہ بالکل سچی بات ہے کہ نماز روزہ بھی متقیوں ہی کا قبول ہوتا ہے۔۔۔۔پس پہلی منزل اور مشکل اس انسان کے لئے جو مومن بننا چاہتا ہے یہی ہے کہ برے کاموں سے پر ہیز کرے۔اسی کا نام تقویٰ ہے۔القام جلد ۱۰ نمبر ۲۴ مورخہ ۱۰؍جولائی ۱۹۰۶ صفحه ۲)