تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 93 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 93

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۳ سورة النحل کرتے ہیں یعنی محسنین ہوتے ہیں۔تقویٰ کے معنے ہیں بدی کی باریک راہوں سے پر ہیز کرنا مگر یا درکھو نیکی اتنی نہیں ہے کہ ایک شخص کہے کہ میں نیک ہوں اس لئے کہ میں نے کسی کا مال نہیں لیا نقب زنی نہیں کی چوری نہیں کرتا۔بد نظری اور زنا نہیں کرتا۔ایسی نیکی عارف کے نزدیک جنسی کے قابل ہے کیونکہ اگر وہ ان بدیوں کا ارتکاب کرے اور چوری یا ڈاکہ زنی کرے تو وہ سزا پائے گا پس یہ کوئی نیکی نہیں کہ جو عارف کی نگاہ میں قابل قدر ہو بلکہ اصلی اور حقیقی نیکی یہ ہے کہ نوع انسان کی خدمت کرے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں کامل صدق اور وفاداری دکھلائے اور اس کی راہ میں جان تک دے دینے کو طیار ہو۔اسی لئے یہاں فرمایا ہے إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَ الَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ۔یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے جو بدی سے پر ہیز کرتے ہیں اور ساتھ ہی نیکیاں بھی کرتے ہیں۔الحکم جلد ۸ نمبر ا مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۴ صفحه ۳) اللہ تعالیٰ ان کی حمایت اور نصرت میں ہوتا ہے جو تقویٰ اختیار کریں۔تقویٰ کہتے ہیں بدی سے پر ہیز کرنے کو اور مُحْسِنُونَ وہ ہوتے ہیں جو اتنا ہی نہیں کہ بدی سے پر ہیز کریں بلکہ نیکی بھی کریں۔اور پھر یہ بھی فرما یا لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰی (یونس : ۲۷۰)۔یعنی ان نیکیوں کو بھی سنوار سنوار کرتے ہیں۔مجھے یہ وحی بار بار ہوئی اِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَ الَّذِينَ هُمْ مُّحْسِنُونَ اور اتنی مرتبہ ہوئی ہے کہ میں گن نہیں سکتا۔خدا جانے دو ہزار مرتبہ ہوئی ہو اس سے غرض یہی ہے کہ تا جماعت کو معلوم ہو جاوے کہ صرف اس بات پر ہی فریفتہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم اس جماعت میں شامل ہو گئے ہیں یا صرف خشک خیالی ایمان سے راضی ہو جاؤ۔اللہ تعالیٰ کی معیت اور نصرت اسی وقت ملے گی جب سچی تقوی ہو اور پھر نیکی ساتھ ہو۔احکام جلد ۱۰ نمبر ۲۲ مورخه ۲۴ جون ۱۹۰۶ صفحه ۳،۲) تقویٰ ، طہارت اور پاکیزگی اختیار کرنے والے خدا کی حمایت میں ہوتے ہیں اور وہ ہر وقت نافرمانی کرنے سے ترساں ولرزں رہتے ہیں۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۴ مورخه ۱۸ رمئی ۱۹۰۸ء صفحه ۲) خدا تعالیٰ بھی انسان کے اعمال کا روز نامچہ بناتا ہے پس انسان کو بھی اپنے حالات کا ایک رونا مچہ تیار کرنا چاہیے اور اس میں غور کرنا چاہیے کہ نیکی میں کہاں تک آگے قدم رکھا ہے انسان کا آج اور کل برابر نہیں ہونے چاہئیں۔جس کا آج اور کل اس لحاظ سے کہ نیکی میں کیا ترقی کی ہے برابر ہو گیا وہ گھاٹے میں ہے۔انسان اگر خدا کو ماننے والا اور اسی پر کامل ایمان رکھنے والا ہو تو بھی ضائع نہیں کیا جاتا۔بلکہ اس ایک کی خاطر لاکھوں