تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 92 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 92

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۲ سورة النحل خدا تعالیٰ ان کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور ان کے ساتھ ہے جو نیکی کرنے والے ہیں۔( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ ۳۳۷) تقویٰ کے بہت سے اجزاء ہیں۔عجب ، خود پسندی، مال حرام سے پر ہیز اور بد اخلاقی سے بچنا بھی تقویٰ ہے جو شخص اچھے اخلاق ظاہر کرتا ہے اس کے دشمن بھی دوست ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ادْفَعْ بِالَّتِی هِيَ أَحْسَنُ - رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ ء صفحہ ۸۳) اللہ تعالیٰ لاف گذاف اور لفظوں کو نہیں چاہتا وہ تو حقیقی تقویٰ کو چاہتا اور سچی طہارت کو پسند کرتا ہے جیسا کہ فرمایا ہے إِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْاوَ الَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُونَ (رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ صفحه ۶۹)۔متقی کے معنی ہیں ڈرنے والا۔ایک ترک شر ہوتا ہے اور ایک افاضہ خیر۔متقی ترک شرک کا مفہوم اپنے اندر رکھتا ہے اور محسن افاضہء خیر کو چاہتا ہے۔۔منتقلی کا کام یہ ہے کہ برائیوں سے باز آوے۔اس سے آگے دوسرا درجہ افاضہ خیر کا ہے جس کو یہاں مُخسِنُون کے لفظ سے ادا کیا گیا ہے کہ نیکیاں بھی کرے۔پورا راست با ز انسان تب ہوتا ہے جب بدیوں سے پر ہیز کر کے یہ مطالعہ کرے کہ نیکی کون سی کی ہے۔الخام جلد ۵ نمبر ۲۸ مورخه ۳۱ جولائی ۱۹۰۱ صفحه ۳) إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقُوا خدا ان کے ساتھ ہوتا ہے جو تقی ہوتے ہیں۔یا درکھنا چاہیے کہ قرآن شریف میں تقویٰ کا لفظ بہت مرتبہ آیا ہے۔اس کے معنے پہلے لفظ سے کئے جاتے ہیں۔یہاں مع کا لفظ آیا ہے یعنی جو خدا کو مقدم سمجھتا ہے خدا اس کو مقدم رکھتا ہے اور دنیا میں ہر قسم کی ذلتوں سے بچالیتا ہے۔میرا ایمان یہی ہے کہ اگر انسان دنیا میں ہر قسم کی ذلت اور سختی سے بچنا چاہے تو اس کے لئے ایک ہی راہ ہے کہ متقی بن جائے پھر اس کو کسی چیز کی کمی نہیں۔الحکم جلد ۵ نمبر ۲۳ مورخه ۲۴ جون ۱۹۰۱ صفحه ۲) یاد رکھو کہ حقائق اور معارف کے دروازوں کے کھلنے کے لئے ضرورت ہے تقویٰ کی۔اس لئے تقویٰ اختیار کرو کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْاوَ الَّذِينَ هُمْ مُّحْسِنُونَ۔الحکم جلد ۵ نمبر ۲۲ مورخه ۱۷/جون ۱۹۰۱ صفحه ۲) خدا ان کے ساتھ ہوتا ہے یعنی ان کی نصرت کرتا ہے جو متقی ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کی معیت کا ثبوت اس کی اقام جلد ۵ نمبر ۱۱ مورخه ۲۴ / مارچ ۱۹۰۱ صفحه ۳) نصرت ہی سے ملتا ہے۔بے شک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور جو تقویٰ سے بھی بڑھ کر کام