تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 91
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۱ سورة النحل گھروں کو ویران کر دو بلکہ اسلام کی ابتدائی کاروائی جو حکم الہی کے موافق تھی صرف اتنی تھی کہ جنہوں نے ظالمانہ طور سے تلوار اٹھائی۔وہ تلوار ہی سے مارے گئے۔اور جیسا کیا ویسا اپنا یا داش پا لیا۔یہ کہاں لکھا ہے کہ تلوار کے ساتھ منکروں کو قتل کرتے پھرو۔یہ تو جاہل مولویوں اور نادان پادریوں کا خیال ہے جس کی کچھ بھی اصلیت نہیں۔( مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحه ۴۶۰،۴۵۹ حاشیه ) جسے نصیحت کرنی ہوا سے زبان سے کرو۔ایک ہی بات ہوتی ہے وہ ایک پیرا یہ میں ادا کرنے سے ایک شخص کو دشمن بنا سکتی ہے اور دوسرے پیرایہ میں دوست بنا دیتی ہے پس جَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کے موافق اپنا عمل درآمد رکھو۔اسی طرز کلام ہی کا نام خدا نے حکمت رکھا ہے چنانچہ فرماتا ہے يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ الحکم جلدے نمبر ۹ مورخه ۱۰ / مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۸) يشاء (البقرة : ٢٧٠)۔ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (خم السجدة : ۳۵) یہ تعلیم اس لئے تھی کہ اگر دشمن بھی ہو تو وہ اس نرمی اور حسن سلوک سے دوست بن جاوے اور ان باتوں کو آرام اور سکون کے ساتھ سن لے۔الحکم جلد ۱۰ مورخه ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۶ صفحه ۴) وَ اِنْ عَاقَبتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُم بِهِ وَ لَبِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ للصيرين۔اگر تم ان کا تعاقب کرو تو اسی قدر کرو جو انہوں نے کیا ہو و لین صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّبِرِينَ اور اگر صبر کرو تو وہ صبر کرنے والوں کے لئے اچھا ہے۔(جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۵۶،۲۵۵) اِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَ الَّذِينَ هُمْ مُّحْسِنُونَ۔انسان جب فرط تعصب سے اندھا ہو جاتا ہے تو صادق کی ہر ایک بات اس کو کذب ہی معلوم ہوتی ہے لیکن خدائے تعالی صادق کا انجام بخیر کرتا ہے۔اور کاذب کے نقش ہستی کو منادیتا ہے إِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوا وَ الَّذِينَ هُمْ مُّحْسِنُونَ آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۰۷) خدا ان کے ساتھ ہے جو اس سے ڈرتے ہیں اور وہ جو نیکی کرنا ان کا اصول ہے۔( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ ۷۴)