تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 90
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النحل کسی قدر سختی مصلحت آمیز اس غرض سے ہم نے اختیار کی کہ تا قوم اس طرح سے اپنا معاوضہ پا کر وحشیانہ جوش کو دبائے رکھے اور یہ سختی نہ کسی نفسانی جوش سے اور نہ کسی اشتعال سے بلکہ محض آیت وَجَادِلُهُمْ بِالَّتِي هِيَ احسن پر عمل کر کے ایک حکمت عملی کے طور پر استعمال میں لائی گئی اور وہ بھی اس وقت کہ مخالفوں کی تو ہین اور تحقیر اور بدزبانی انتہا تک پہنچ گئی اور ہمارے سید و مولی سرور کائنات فخر موجودات کی نسبت ایسے گندے اور پرشر الفاظ ان لوگوں نے استعمال کئے کہ قریب تھا کہ ان سے نقص امن پیدا ہو تو اس وقت ہم نے اس حکمت عملی کو برتا۔البلاغ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۳۸۵) جب تو عیسائیوں سے مذہبی بحث کرے تو حکیمانہ طور پر معقول دلائل کے ساتھ کر اور چاہئے کہ تیرا وعظ پسندیدہ پیرایہ میں ہو۔البلاغ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۳۹۱) ( اس آیت سے ) یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہمیشہ کے لئے جب تک اسلام پر حملے کرنے والے حملے کرتے رہیں اس طرف سے بھی سلسلہ مدافعت جاری رہنا چاہئے۔البلاغ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۴۱۲) جب تو کسی عیسائی معلم کے ساتھ بحث کرے تو حکمت اور نیک نصیحتوں کے ساتھ بحث کر جو نرمی اور تہذیب سے ہو۔ہاں یہ سچ ہے کہ بہتیرے اس زمانہ کے جاہل اور نادان مولوی اپنی حماقت سے یہی خیال رکھتے ہیں کہ جہاد اور تلوار سے دین کو پھیلانا نہایت ثواب کی بات ہے اور وہ پر دہ اور نفاق سے زندگی بسر کرتے ہیں لیکن وہ ایسے خیال میں سخت غلطی پر ہی اور ان کی غلط فہمی سے الہی کتاب پر الزام نہیں آسکتا۔واقعی سچائیاں اور حقیقی صداقتیں کسی جبر کی محتاج نہیں ہوتیں بلکہ جبر اس بات پر دلیل ٹھہرتا ہے کہ روحانی دلائل کمزور ہیں۔کیا وہ خدا جس نے اپنے پاک رسول پر یہ وحی نازل کی کہ فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُوا الْعَزمِ (الاحقاف:۳۶) یعنی تو ایسا صبر کر کہ جو تمام اولو العزم رسولوں کے صبر کے برابر ہو یعنی اگر تمام نبیوں کا صبرا اکٹھا کر دیا جائے تو وہ تیرے صبر سے زیادہ نہ ہو۔اور پھر فرمایا کہ لا إِكْرَاةَ في الدِّينِ (البقرة : ۲۵۷) یعنی دین میں جبر نہیں چاہیے۔اور پھر فرمایا کہ اُدعُ إلى سَبِيلِ رَبَّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلُهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ یعنی عیسائیوں کے ساتھ حکمت اور نیک وعظوں کے ساتھ مباحثہ کر نہ تختی سے۔اور پھر فرمایا وَ الْعَظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ( ال عمران : ۱۳۵) یعنی مومن وہی ہیں جو غصہ کو کھا جاتے ہیں اور یاوہ گو اور ظالم طبع لوگوں کے حملوں کو معاف کر دیتے ہیں اور بیہودگی کا بیہودگی سے جواب نہیں دیتے۔کیا ایسا خدا یہ تعلیم دے سکتا تھا کہ تم اپنے دین کے منکروں کو قتل کر دو اور ان کے مال لوٹ لو اور ان کے