تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 82 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 82

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۲ سورة النحل ايتاى ذى القربى کا درجہ طبعی حالت کا درجہ ہے یعنی جس مقام پر انسان سے نیکیوں کا صدور ایسے طور پر ہو جیسے طبعی تقاضا ہوتا ہے۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے ماں اپنے بچے کو دودھ دیتی ہے اور اس کی پرورش کرتی ہے کبھی اس کو خیال بھی نہیں آتا کہ بڑا ہو کر کمائی کرے گا اور اس کی خدمت کرے گا یہاں تک کہ اگر کوئی بادشاہ اسے یہ حکم دے کہ تو اگر اپنے بچے کو دودھ نہ دے گی اور اس سے وہ مرجاوے تو بھی تجھ سے مؤاخذہ نہ ہو گا۔اس حکم پر بھی اس کو دودھ دینا وہ نہیں چھوڑ سکتی بلکہ ایسے بادشاہ کو دو چار گالیاں ہی سنا دے گی اس لئے کہ وہ پرورش اس کا ایک طبعی تقاضا ہے۔وہ کسی امید یا خوف پر مبنی نہیں۔اسی طرح پر جب انسان نیکی میں ترقی کرتے کرتے اس مقام پر پہنچتا ہے کہ وہ نیکیاں اس سے ایسے طور پر صادر ہوتی ہیں گویا ایک طبعی تقاضا ہے تو یہی وہ حالت ہے جو مطمعنہ کہلاتی ہے۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۶ صفحه ۴) پہلے فرمایا کہ عدل کرو۔پھر اس سے بھی آگے بڑھ کر فرمایا احسان کا بھی خدا نے تم کو حکم کیا ہے یعنی صرف اسی سے نیکی نہ کرو جس نے تم سے نیکی کی ہے بلکہ احسان کے طور پر بھی جو کہ کوئی حق نہ رکھتا ہو کہ اس سے نیکی کی جاوے اس سے بھی نیکی کرومگر احسان میں بھی ایک قسم کا باریک نقص اور مخفی تعلق اس شخص سے رہ جاتا ہے ہے جس سے احسان کیا گیا ہے کیونکہ کبھی کسی موقع پر اس سے کوئی ایسی حرکت سرزد ہو جائے جو اس محسن کے خلاف طبیعت ہو یا نا فرمانی کر بیٹھے تو محسن ناراض ہو کر اس کو احسان فراموش یا نمک حرام وغیرہ کہہ دے گا اور اگر چہ وہ شخص اس بات کو دبانے کی کوشش بھی کرے گا مگر پھر اس میں ایک مخفی اور بار یک رنگ میں نقص باقی رہ جاتا ہے کہ کبھی نہ کبھی ظاہر ہو ہی جاتا ہے اسی واسطے اس نقص اور کمی کی تلافی کرنے کے واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ احسان سے بھی آگے بڑھو اور ترقی کر کے ایسی نیکی کرو کہ وہ ایتا آنی ذی القربی کے رنگ میں رنگین ہو یعنی جس طرح سے ایک ماں اپنے بچے سے نیکی کرتی ہے۔ماں کی اپنے بچے سے محبت ایک طبعی اور فطرتی تقاضا پر مبنی ہے نہ کسی طمع پر۔دیکھو بعض اوقات ایک ماں ۶۰ برس کی بڑھیا ہوتی ہے اس کو کوئی تو قع خدمت کی اپنے بچے سے نہیں ہوتی کیونکہ اس کو کہاں یہ خیال ہوتا ہے کہ میں اس کے جوان اور لائق ہونے تک زندہ بھی رہوں گی۔غرض ایک ماں کا اپنے بچے سے محبت کرنا بلا کسی خدمت یا طمع کے خیال کے فطرت انسانی میں رکھا گیا ہے۔ماں خود اپنی جان پر دکھ برداشت کرتی ہے مگر بچے کو آرام پہنچانے کی کوشش کرتی ہے۔خود کیلی جگہ لیتی ہے اور اسے خشک حصہ بستر پر جگہ دیتی ہے۔بچہ بیمار ہو جائے تو راتوں جاگتی اور۔