تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 81
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ΔΙ سورة النحل قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل اللہ ترقی کر کے ایسی محبت کو حاصل کر سکتے ہیں۔انسان کا ظرف چھوٹا نہیں۔خدا کے فضل سے یہ باتیں حاصل ہو جاتی ہیں بلکہ یہ وسعت اخلاق کے لوازمات میں سے ہے۔میں تو قائل ہوں کہ اہل اللہ یہاں تک ترقی کرتے ہیں کہ مادری محبت کے اندازہ سے بھی بڑھ کر انسان کے ساتھ محبت کرتے ہیں۔( بدر جلد نمبر ۹ مورخہ یکم جون ۱۹۰۵ صفحه ۲) بیشک اللہ تعالیٰ عدل کا حکم دیتا ہے اور پھر اس سے ترقی کرو تو احسان کا حکم دیتا ہے اور پھر اس سے بھی ترقی کرو تو ایتَانِی ذِي الْقُرْبی کا حکم ہے۔عدل کی حالت یہ ہے جو متقی کی حالت نفس امارہ کی صورت میں ہوتی ہے۔اس حالت کی اصلاح کے لئے عدل کا حکم ہے۔اس میں نفس کی مخالفت کرنی پڑتی ہے۔مثلاً کسی کا قرضہ ادا کرنا ہے لیکن نفس اس میں یہی خواہش کرتا ہے کہ کسی طرح سے اس کو دبالوں اور اتفاق سے اس کی میعاد بھی گزر جاوے اس صورت میں نفس اور بھی دلیر اور بے باک ہوگا کہ اب تو قانونی طور پر بھی کوئی مواخذہ نہیں ہوسکتا مگر یہ ٹھیک نہیں۔عدل کا تقاضا یہی ہے کہ اس کا دین واجب ادا کیا جاوے اور کسی حیلے اور غذر سے اس کو دبایا نہ جاوے۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض لوگ ان امور کی پروا نہیں کرتے اور ہماری جماعت میں بھی ایسے لوگ ہیں جو بہت کم توجہ کرتے ہیں اپنے قرضوں کے ادا کرنے میں۔یہ عدل کے خلاف ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو ایسے لوگوں کی نماز نہ پڑھتے تھے۔پس تم میں سے ہر ایک اس بات کو خوب یاد رکھے کہ قرضوں کے ادا کرنے میں سستی نہیں کرنی چاہیے اور کسی قسم کی خیانت اور بے ایمانی سے دور بھاگنا چاہئے کیونکہ یہ امرالہی کے خلاف ہے جو اس نے اس آیت میں دیا ہے۔اس کے بعد احسان کا درجہ ہے جو شخص عدل کی رعایت کرتا ہے اور اس کی حد بندی کو نہیں تو ڑتا اللہ تعالیٰ اسے تو فیق اور قوت دے دیتا ہے اور وہ نیکی میں اور ترقی کرتا ہے یہاں تک کہ عدل ہی نہیں کرتا بلکہ تھوڑی سی نیکی کے بدلے بہت بڑی نیکی کرتا ہے لیکن احسان کی حالت میں بھی ایک کمزوری ابھی باقی ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی نہ کسی وقت اس نیکی کو جتا بھی دیتا ہے مثلاً ایک شخص دس برس تک کسی کو روٹی کھلاتا ہے اور وہ کبھی ایک بات اس کی نہیں مانتا تو اسے کہہ دیتا ہے کہ دس برس کا ہمارے ٹکڑوں کا غلام ہے اور اس طرح پر اس نیکی کو بے اثر کر دیتا ہے۔دراصل احسان کرنے والے کے اندر بھی ایک قسم کی مخفی ریا ہوتی ہے لیکن تیسرا مرتبہ ہر قسم کی آلائش اور آلودگی سے پاک ہے اور وہ این آئی ذی القربی کا درجہ ہے۔