تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 80
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۰ سورة النحل سے بچہ ضائع بھی ہو جاوے تو اس کو کوئی سزا نہیں ہوگی تو کیا ماں ایسا حکم سن کر خوش ہوگی۔اور اس کی تعمیل کرے گی ؟ ہرگز نہیں۔بلکہ وہ تو اپنے دل میں ایسے بادشاہ کو کو سے گی کہ کیوں اس نے ایسا حکم دیا۔پس اس طریق پر نیکی ہو کہ اسے طبعی مرتبہ تک پہنچایا جاوے کیونکہ جب کوئی شے ترقی کرتے کرتے اپنے طبعی کمال تک پہنچ جاتی ہے اس وقت وہ کامل ہوتی ہے۔الحکم جلد ۹ نمبر ۳ مورخه ۲۴ /جنوری ۱۹۰۵ء صفحه ۴) باہمی ہمدردی کے اللہ تعالیٰ نے تین مراتب رکھے ہیں جن کا ذکر آیت إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْإِحْسَانِ وَابْتَائِی ذی القربی میں ہے۔سب سے چھوٹی نیکی اس میں عدل کو قرار دیا گیا ہے کہ اگر کوئی تم سے نیکی کا معاملہ کرے تو تم بھی اس سے ویسا ہی کرو۔اس کے بعد پھر احسان کا درجہ ہے اور اگر چہ یہ عدل سے اعلیٰ ہے لیکن اس میں بھی ایک نقص ہے کہ احسان کرنے والے کے دل میں ریا اور خودی آسکتی ہے اور کسی موقعہ پر جتلا سکتا ہے کہ میں نے تیرے ساتھ فلاں نیکی (احسان ) کیا ہے مگر ایتانِی ذِي الْقُرْبی میں ریاء اور خودی کا نام ونشان نہیں ہوتا جیسے ماں اپنے بچے کو طبعی طور سے پرورش کرتی ہے اور اس کو کوئی علم اس کی موت اور زندگی کا نہیں ہوتا اور نہ اس سے فائدے اور ضرر کی امید ہو سکتی ہے لیکن خدا تعالیٰ نے جوش اس کے دل میں ڈالا ہوا ہوتا ہے اور وہ بے اختیار اپنے ہر ایک قسم کے سکھ اور آرام کو اس بچے کے لئے قربان کر دیتی ہے اسی طرح طبعی جوش سے نوع انسان کی ہمدردی کا نام ایتانِی ذِي الْقُربى ہے اور اس ترتیب سے خدا تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ اگر تم پورا نیک بننا چاہتے ہو تو اپنی نیکی کو ایتَانِی ذی القربی یعنی طبیعی درجہ تک پہنچا ؤ جب تک کوئی شے ترقی کرتی کرتی اپنے اس طبعی مرکز تک نہیں پہنچتی تب تک وہ کمال کا درجہ حاصل نہیں کرتی۔البدر جلد ۴ نمبر ۲ مورخه ۱۰/جنوری ۱۹۰۵ ء صفحه ۴) ہماری لڑکی کو ایک دفعہ ہیضہ ہو گیا تھا ہمارے گھر سے اس کی تمام قے وغیرہ اپنے ہاتھ پر لیتی تھیں۔ما سب تکالیف میں بچہ کی شریک ہوتی ہے۔ی طبیعی محبت ہے جس کے ساتھ کوئی دوسری محبت مقابلہ نہیں کر سکتی۔خدا تعالیٰ نے اسی کی طرف قرآن شریف میں اشارہ کیا ہے کہ اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَ ابْتَاتِي ذِي الْقُرْبى - ادنی درجہ عدل کا ہوتا ہے جتنا لے اتنا دے۔اس سے ترقی کرے تو احسان کا درجہ ہے جتنالے وہ بھی دے اور اس سے بڑھ کر بھی دے۔پھر اس سے بڑھ کر ایس آئی ذی القربی کا درجہ ہے یعنی دوسروں کے ساتھ اس طرح نیکی کرے جس طرح ماں بچہ کے ساتھ بغیر نیت کسی معاوضہ کے طبعی طور پر محبت کرتی ہے۔