تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 77
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام LL سورة النحل عدل یہ ہے کہ انسان کسی سے کوئی نیکی کرے بشرط معاوضہ اور یہ ظاہر بات ہے کہ ایسی نیکی کوئی اعلیٰ درجہ کی بات نہیں بلکہ سب سے ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ عدل کرو اور اگر اس پر ترقی کرو تو پھر وہ احسان کا درجہ ہے یعنی بلا عوض سلوک کرو لیکن یہ امر کہ جو بدی کرتا ہے اس سے نیکی کی جاوے کوئی ایک گال پر طمانچہ مارے دوسری پھیر دی جاوے۔یہ میچ نہیں یا یہ کہو کہ عام طور پر یہ تعلیم عمل درآمد میں نہیں آسکتی۔چنانچہ سعدی کہتا ہے۔۔نکوئی بابدان کردن چنان است که بد کردن برائے نیک مردان اس لئے اسلام نے انتقامی حدود میں جو اعلیٰ درجہ کی تعلیم دی ہے کوئی دوسرا مذ ہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور وہ یہ ہے جَزْوُا سَيِّئَةٍ سَيْئَةٌ مِثْلَهَا فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ (الشوری : ۴۱) یعنی بدی کی سزا اسی قدر بدی ہے اور جو کوئی معاف کر دے مگر ایسے محل اور مقام پر کہ وہ عفو اصلاح کا موجب ہو۔اسلام نے عفو خطا کی تعلیم دی لیکن یہ نہیں کہ اس سے شتر بڑھے۔غرض عدل کے بعد دوسرا درجہ احسان کا ہے یعنی بغیر کسی معاوضہ کے سلوک کیا جاوےلیکن اس سلوک میں بھی ایک قسم کی خود غرضی ہوتی ہے۔کسی نہ کسی وقت انسان اس احسان یا نیکی کو جتا دیتا ہے اس لئے اس سے بھی بڑھ کر ایک تعلیم دی اور وہ این آئی ذی القربی کا درجہ ہے۔ماں جو اپنے بچہ کے ساتھ سلوک کرتی ہے وہ اس سے کسی معاوضہ اور انعام واکرام کی خواہشمند نہیں ہوتی۔وہ اس کے ساتھ جو نیکی کرتی ہے محض طبیعی محبت سے کرتی ہے اگر بادشاہ اس کو حکم دے کہ تو اس کو دودھ مت دے اور اگر یہ تیری غفلت سے مر بھی جاوے تو تجھے کوئی سزا نہیں دی جاوے گی بلکہ انعام دیا جاوے گا اس صورت میں وہ بادشاہ کا حکم ماننے کو طیار نہ ہوگی بلکہ اس کو گالیاں دے گی کہ یہ میری اولاد کا دشمن ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ ذاتی محبت سے کر رہی ہے اس کی کوئی غرض درمیان نہیں۔یہ اعلیٰ درجہ کی تعلیم ہے جو اسلام پیش کرتا ہے اور یہ آیت حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں پر حاوی ہے۔حقوق اللہ کے پہلو کے لحاظ سے اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ انصاف کی رعایت سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اور تمہاری پرورش کرتا ہے اور جو اطاعت الہی میں اس مقام سے ترقی کرے تو احسان کی پابندی سے اطاعت کرے کیونکہ وہ حسن ہے اور اس کے احسانات کو کوئی شمار نہیں کر سکتا اور چونکہ حسن کے شمائل اور خصائل کو مد نظر رکھنے سے اس کے احسان تازہ رہتے ہیں اس لئے احسان کا مفہوم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتایا ہے کہ ایسے طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے گویا دیکھ رہا ہے یا کم از کم یہ کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔اس مقام تک انسان میں ایک حجاب رہتا