تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 78 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 78

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۸ سورة النحل ہے لیکن اس کے بعد جو تیسرا درجہ ہے ایتاء ذی القربیٰ کا یعنی اللہ تعالیٰ سے اسے ذاتی محبت پیدا ہو جاتی ہے اور حقوق العباد کے پہلو سے میں اس کے معنے پہلے بیان کر چکا ہوں اور یہ بھی میں نے بیان کیا ہے کہ یہ تعلیم جو قرآن شریف نے دی ہے کسی اور کتاب نے نہیں دی اور ایسی کامل ہے کہ کوئی نظیر اس کی پیش نہیں کر سکتا۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۷ مورخه ۲۴ /اکتوبر ۱۹۰۶ صفحه ۳) سچا مذہب وہی ہے جو انسانی قومی کا مربی ہو نہ کہ ان کا استیصال کرے۔رجولیت یا غضب جو خدا تعالیٰ کی طرف سے فطرتِ انسانی میں رکھے گئے ہیں ان کو چھوڑ نا خدا کا مقابلہ کرنا ہے جیسے تارک الدنیا ہونا یا راہب بن جانا۔یہ تمام حق العباد کو تلف کرنے والے ہیں۔اگر یہ امر ایسا ہی ہوتا تو گویا اس خدا پر اعتراض ہے جس نے یہ قولی ہم میں پیدا کئے۔سوایسی تعلیمیں جو انجیل میں ہیں اور جن سے قویٰ کا استیصال لازم آتا ہے ضلالت تک پہنچاتی ہیں اللہ تعالیٰ تو اس کی تعدیل کا حکم دیتا ہے ضائع کرنا پسند نہیں کرتا جیسے فرمایا إنّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ عدل ایک ایسی چیز ہے جس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحه ۴۸،۴۷) نیکی یہ ہے کہ خدا سے پاک تعلقات قائم کئے جاویں اور اس کی محبت ذاتی رگ وریشہ میں سرایت کر جاوے جیسے خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَ ايْتَائِي ذِي الْقُرْ بی خدا کے ساتھ عدل یہ ہے کہ اس کی نعمتوں کو یاد کر کے اس کی فرماں برداری کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھیرا ؤ اور اسے پہچانو اور اس پر ترقی کرنا چا ہو تو درجہ احسان کا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کی ذات پر ایسا یقین کر لینا کہ گویا اس کو دیکھ رہا ہے اور جن لوگوں نے تم سے سلوک نہیں کیا ان سے سلوک کرنا اور اگر اس سے بڑھ کر سلوک چاہو تو ایک اور درجہ نیکی کا یہ ہے کہ خدا کی محبت طبیعی محبت سے کرو نہ بہشت کی طمع نہ دوزخ کا خوف ہو۔بلکہ اگر فرض کیا جاوے کہ نہ بہشت ہے نہ دوزخ ہے تب بھی جوش محبت اور اطاعت میں فرق نہ آوے۔ایسی محبت جب خدا سے ہو تو اس میں ایک کشش پیدا ہو جاتی ہے اور کوئی فتور واقع نہیں ہوتا۔اور مخلوق خدا سے ایسے پیش آؤ کہ گویا تم ان کے حقیقی رشتہ دار ہو یہ درجہ سب سے بڑھ کر ہے کیونکہ احسان میں ایک مادہ خود نمائی کا ہوتا ہے اور اگر کوئی احسان فراموشی کرتا ہو تو حسن حجٹ کہ اٹھتا ہے کہ میں نے تیرے ساتھ فلاں احسان کئے لیکن طبعی محبت جو کہ ماں کو بچے کے ساتھ ہوتی ہے اس میں کوئی خود نمائی نہیں ہوتی بلکہ اگر ایک بادشاہ ماں کو یہ حکم دیوے کہ تو اس بچہ کو اگر مار بھی ڈالے تو تجھ سے کوئی باز پرس نہ ہو گی تو وہ