تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 72
۷۲ سورة النحل تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کو فائدہ پہنچانا اور یہ خلق اوسط درجہ کا ہے۔اکثر لوگ غریبوں پر احسان کرتے ہیں اور احسان میں یہ ایک مخفی عیب ہے کہ احسان کرنے والا خیال کرتا ہے کہ میں نے احسان کیا ہے اور کم سے کم وہ اپنے احسان کے عوض میں شکر یہ یا دعا چاہتا ہے اور اگر کوئی منون منت اس کا مخالف ہو جائے تو اس کا نام احسان فراموش رکھتا ہے۔بعض وقت اپنے احسان کی وجہ سے اس پر فوق الطاقت بوجھ ڈال دیتا ہے اور اپنا احسان اس کو یاد دلاتا ہے جیسا کہ احسان کرنے والوں کو خدا تعالیٰ متنبہ کرنے کے لئے فرماتا ہے لَا تُبْطِلُوا صَدَ قُتِكُمْ بِالْمَن وَ الأذى (البقرة : ۲۶۵ ) یعنی اے احسان کرنے والو! اپنے صدقات کو جن کی صدق پر بنا چاہئے۔احسان 10: یاد دلانے اور دکھ دینے کے ساتھ برباد مت کرو۔یعنی صدقہ کا لفظ صدق سے مشتق ہے۔پس اگر دل میں صدق اور اخلاص ندر ہے تو وہ صدقہ صدقہ نہیں رہتا۔بلکہ ایک ریا کاری کی حرکت ہو جاتی ہے۔غرض احسان کرنے والے میں یہ ایک خامی ہوتی ہے کہ کبھی غصہ میں آکر اپنا احسان بھی یاد دلا دیتا ہے اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے احسان کرنے والوں کو ڈرایا۔تیسرا درجہ ایصال خیر کا خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ بالکل احسان کا خیال نہ ہو اور نہ شکر گزاری پر نظر ہو بلکہ ایک ایسی ہمدردی کے جوش سے نیکی صادر ہو جیسا کہ ایک نہایت قریبی مثلاً والدہ محض ہمدردی کے جوش سے اپنے بیٹے سے نیکی کرتی ہے۔یہ وہ آخری درجہ ایصال خیر کا ہے جس سے آگے ترقی کرنا ممکن نہیں۔لیکن خدا تعالیٰ نے ان تمام ایصال خیر کی قسموں کو محل اور موقعہ سے وابستہ کر دیا ہے اور آیت موصوفہ میں صاف فرما دیا ہے کہ اگر یہ نیکیاں اپنے اپنے محل پر مستعمل نہیں ہوں گی تو پھر یہ بدیاں ہو جائیں گی۔بجائے عدل فحشاء بن جائے گا۔یعنی حد سے اتنا تجاوز کرنا کہ نا پاک صورت ہو جائے۔اور ایسا ہی بجائے احسان کے منکر کی صورت نکل آئے گی یعنی وہ صورت جس سے عقل اور کانشنس انکار کرتا ہے اور بجائے ایسائی ذی القربی کے بغی بن جائے گا۔یعنی وہ بے محل ہمدردی کا جوش ایک بری صورت پیدا کرے گا۔اصل میں بغی اس بارش کو کہتے ہیں جو حد سے زیادہ برس جائے اور کھیتوں کو تباہ کر دے اور حق واجب میں کمی رکھنے کو بغی کہتے ہیں۔اور یا حق واجب سے افزونی کرنا بھی بغی ہے۔غرض ان تینوں میں سے جو حل پر صادر نہیں ہوگا وہی خراب سیرت ہو جائے گی۔اسی لئے ان تینوں کے ساتھ موقع اور محل کی شرط لگا دی ہے۔اس جگہ یادر ہے که مجرد عدل یا احسان یا ہمدردی ، ذی القربی کو خلق نہیں کہہ سکتے بلکہ انسان میں یہ سب طبعی حالتیں اور طبعی قوتیں ہیں کہ جو بچوں میں بھی وجود عقل سے پہلے پائی جاتی ہیں۔مگر خلق کے لئے معقل شرط ہے اور نیز یہ شرط