تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 65
سورة المائدة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام پھر اگر اس صورت میں ہم کوئی ایسا فرد افراد بشریہ سے تسلیم کرلیں جو اپنی بعض صفات یا افعال میں دوسروں سے بکلی ممتاز اور لوازم بشریت سے بڑھ کر ہے اور خدا تعالیٰ کی طرح اپنے اس فعل یا صفت میں یگانگت رکھتا ہے تو گویا ہم نے خدا تعالیٰ کی صفت وحدانیت میں ایک شریک قرار دیا۔یہ ایک دقیق راز ہے اس کو خوب سوچو۔خدا تعالیٰ نے جو اپنی کلام میں کئی دفعہ حضرت مسیح کی وفات کا ذکر کیا ہے یہاں تک کہ ان کی والدہ مریم صدیقہ کے ساتھ جو باتفاق فوت شدہ ہے ان کے ذکر کو ملا کر بیان کیا کہ گانا یا كُنِ الطَّعَام کہ وہ دونوں جب زندہ تھے طعام کھایا کرتے تھے اس تاکید کی یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے علم قدیم سے خوب جانتا تھا کہ آخری زمانہ میں لوگ بباعث خیال حیات مسیح سخت فتنہ میں پڑیں گے اور وہ فتنہ اسلام کیلئے سخت مضر ہو گا اس لئے اس نے پہلے ہی سے فیصلہ کر دیا اور بخوبی ظاہر کر دیا کہ میں فوت ہو گیا۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۴۵) حضرت مسیح ابن مریم میں اس سے زیادہ کوئی بات نہیں کہ وہ صرف ایک رسول ہے اور اس سے پہلے بھی رسول ہی آتے رہے ہیں اور یہ کلمہ کہ اس سے پہلے بھی رسول ہی آتے رہے ہیں۔یہ قیاس استقرائی کے طور پر ایک استدلال لطیف ہے کیونکہ قیاسات کے جمیع اقسام میں سے استقراء کا مرتبہ وہ اعلیٰ شان کا مرتبہ ہے کہ اگر یقینی اور قطعی مرتبہ سے اس کو نظر انداز کر دیا جائے تو دین و دنیا کا تمام سلسلہ بگڑ جاتا ہے۔اگر ہم غور سے دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ حصہ کثیرہ دنیا کا اور ازمنہ گذشتہ کے واقعات کا ثبوت اسی استقراء کے ذریعہ سے ہوا ہے مثلاً ہم جو اس وقت کہتے ہیں کہ انسان منہ سے کھاتا اور آنکھوں سے دیکھتا اور کانوں سے سنتا اور ناک سے سونگھتا اور زبان سے بولتا ہے اگر کوئی شخص کوئی مقدس کتاب پیش کرے اور اس میں یہ لکھا ہوا ہو کہ یہ واقعات زمانہ گذشتہ کے متعلق نہیں ہیں بلکہ پہلے زمانہ میں انسان آنکھوں کے ساتھ کھایا کرتا تھا اور کانوں کے ذریعہ سے بولتا تھا اور ناک کے ذریعہ سے دیکھتا تھا ایسا ہی اور باتوں کو بھی بدل دے یا مثلا یہ کہے کہ کسی زمانہ میں انسان کی آنکھیں دو نہیں ہوتی تھیں بلکہ میں ہوتی تھیں۔دس تو سامنے چہرہ میں اور دس پشت پر لگی ہوئی تھیں تو اب ناظرین سوچ سکتے ہیں کہ گو فرض کے طور پر ہم تسلیم بھی کر لیں کہ ان عجیب تحریروں کا لکھنے والا کوئی مقدس اور راستباز آدمی تھا۔مگر ہم اس یقینی نتیجہ سے کہاں اور کدھر گریز کر سکتے ہیں جو قیاس استقرائی سے پیدا ہوا ہے۔میری رائے میں ایسا بزرگ اگر نہ صرف ایک بلکہ کروڑ سے بھی زیادہ اور قیاس استقرائی سے نتائج قطعیہ یقینیہ کو توڑنا چاہیں تو ہر گز ٹوٹ نہیں سکیں گے بلکہ اگر ہم منصف ہوں اور حق پسندی ہمارا شیوہ