تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 66
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۶ سورة المائدة ہو تو اس حالت میں کہ اس بزرگ کو ہم در حقیقت ایک بزرگ سمجھتے ہیں اور اس کے الفاظ میں ایسے ایسے کلمات خلاف حقائق مشهوده محسوسہ کے پاتے ہیں تو ہم اُس کی بزرگی کی خاطر سے صرف عن النظاھر کریں گے اور ایسی تاویل کریں گے جس سے اس بزرگ کی عزت قائم رہ جاوے۔ورنہ یہ تو ہر گز نہ ہو گا کہ جو حقائق استقراء کے یقینی اور قطعی ذریعہ سے ثابت ہو چکے ہیں وہ ایک روایت دیکھ کر ٹال دیئے جاویں۔اگر ایسا کسی کا خیال ہو تو یہ بار ثبوت اس کی گردن پر ہے کہ وہ استقراء مثبتہ موجودہ قطعیہ یقینیہ کے برخلاف اس روایت کی تائید اور تصدیق میں کوئی امر پیش کر دیوے مثلاً جو شخص اس بات پر بحث کرتا اور لڑتا جھگڑتا ہے کہ صاحب ضرور پہلے زمانہ میں لوگ زبان کے ساتھ دیکھتے اور ناک کے ساتھ باتیں کیا کرتے تھے تو اس کا ثبوت پیش کرے اور جب تک ایسا ثبوت پیش نہ کرے تب تک ایک مہذب معظمند کی شان سے بہت بعید ہے کہ ان تحریرات پر بھروسہ کر کے کہ جن کے بصورت صحت بھی نہیں ہیں معنے ہو سکتے ہیں وہ معنی اختیار کرے جو حقائق ثابت شدہ سے بالکل مغائر اور منافی پڑے ہوئے ہیں مثلاً اگر ایک ڈاکٹر ہی سے اس بات کا تذکرہ ہو کہ سم الفار اور وہ زہر جو تلخ بادام سے تیار کیا جاتا ہے اور بیش یہ تمام زہریں نہیں ہیں۔اور اگر ان کو دو دوسیر کے قدر بھی انسان کے بچوں کو کھلایا جاوے تو کچھ ہرج نہیں۔اور اس کا ثبوت یہ دیوے کہ فلاں مقدس کتاب میں ایسا ہی لکھا ہے اور راوی معتبر ہے تو کیا وہ ڈاکٹر صاحب اس مقدس کتاب کا لحاظ کر کے ایک ایسے امر کو چھوڑ دیں گے جو قیاس استقرائی سے ثابت ہو چکا ہے۔غرض جب کہ قیاس استقرائی دنیا کے حقائق ثابت کرنے کے لئے اول درجہ کا مرتبہ رکھتا ہے تو اسی جہت سے اللہ جل شانہ نے سب سے پہلے قیاس استقرائی کو ہی پیش کیا۔اور فرمایا : قد خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ یعنی حضرت مسیح علیہ السلام بیشک نبی تھے اور اللہ جل شانہ کے پیارے رسول تھے مگر وہ انسان تھے۔تم نظر اٹھا کر دیکھو کہ جب سے یہ سلسلہ تبلیغ اور کلام الہی کے نازل کرنے کا شروع ہوا ہے ہمیشہ اور قدیم سے انسان ہی رسالت کا مرتبہ پا کر دنیا میں آتے رہے ہیں یا کبھی اللہ تعالی کا بیٹا بھی آیا ہے؟ اور خلت کا لفظ اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ جہاں تک تمہاری نظر تاریخی سلسلہ کو دیکھنے کے لئے وفا کر سکتی ہے اور گذشتہ لوگوں کا حال معلوم کر سکتے ہو خوب سوچو اور سمجھوکہ کبھی یہ سلسلہ ٹوٹا بھی ہے۔کیا تم کوئی ایسی نظیر پیش کر سکتے ہو جس سے ثابت ہو سکے کہ یہ امر ممکنات میں سے ہے، پہلے بھی کبھی کبھی ہوتا ہی آیا ہے؟ سوشمند آدمی اس جگہ ذرہ ٹھہر کر اور اللہ جل شانہ کا خوف کر کے دل میں سوچے کہ حادثات کا سلسلہ اس بات کو چاہتا ہے کہ اس کی نظیر بھی بھی کسی زمانہ میں پائی جاوے۔