تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 56
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۶ سورة المائدة آیت : أَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلى يَوْمِ الْقِيمَةِ ( المائدة : ۱۵ ) اور آیت : الْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلى يَوْمِ الْقِيمَةِ اور آیت : وَ جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ ( ال عمران : (۵۶) اور آیت : اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ( الفاتحة : ۶، ۷) ۔ یہ تمام آیتیں بتلا رہی ہیں کہ قیامت تک اختلاف رہے گا۔ منعم علیہم بھی رہیں گے مغ ی رہیں گے مغضوب علیہم بھی رہیں گے۔ ہاں ! مللِ باطلہ دلیل کے رو سے ہلاک ہو جائیں گی ۔ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۲۰ حاشیه ) یہود اور نصاریٰ میں قیامت تک عداوت رہے گی پس ظاہر ہے کہ اگر تمام یہود قیامت سے پہلے ہی حضرت عیسیٰ پر ایمان لے آئیں گے تو قیامت تک عداوت رکھنے والا کون رہے گا ؟ (حقیقة الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۶) يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۖ وَ إِنْ لَّمْ تَفْعَلُ فَمَا بَلَغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَفِرِينَ ۔ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۔ خدا تجھے ان لوگوں کے شر سے بچائے گا کہ جو تیرے قتل کرنے کی گھات ( براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۵۰ حاشیہ نمبر ۱۱) میں ہیں ۔ - یہ اسلام ہے کہ جو کچھ خدا کی راہ میں پیش آوے اس سے انکار نہ کرے۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عصمت کے فکر میں خود لگتے تو وَ اللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ کی آیت نہ نازل ہوتی ۔ حفاظت الہی کا یہی سر ہے۔ البدر جلد نمبر۷ مورخه ۱۲ دسمبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۵۳) خدا نے ہم سے وعدہ فرمایا ہے اور اس پر ہمارا ایمان ہے وہ وعدہ وَ اللهُ يَعْصِ وَ اللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ ا مِنَ النَّاسِ کا ہے پس اسے کوئی مخالف آزما لے اور آگ جلا کر ہمیں اس میں ڈال دے، آگ ہرگز ہم پر کام نہ کرے گی اور وہ ضرور ہمیں اپنے وعدہ کے موافق بچالے گا لیکن اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ ہم خود آگ میں کودتے پھریں یہ طریق انبیاء کا نہیں خدا تعالیٰ فرماتا ہے : وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ ( البقرة : ۱۹۶) پس ہم خود آگ میں دیدہ دانستہ نہیں پڑتے بلکہ یہ حفاظت کا وعدہ دشمنوں کے مقابلہ پر ہے کہ اگر وہ آگ میں ہمیں جلانا چاہیں تو ہم ہرگز نہ جلیں گے۔ البدر جلد ۲ نمبر ۷ ۴ مورخہ ۱۶ دسمبر ۱۹۰۳ ء صفحه ۳۷۳)