تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 50
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ♡ سورة المائدة خوفناک ہے اور گناہوں کی معافی | it is and also showed men how they could be reconciled to God, obtaining حاصل کر کے اور روح القدس کے forgiveness of sins and also Power by عطیہ سے ہم تقدس کی نئی زندگی پاکر اور خدا اور انسان کے درمیان محبت the gift of the Holy Spirit to live a new life in real holiness, and in love to God قائم کر کے خدا کو پھر راضی کر سکتے and man۔ What the characteristics of ہیں۔ متی باب ۵ تاے میں پہاڑی تعلیم that new life are you can see by کے پڑھنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ reading the sermon on the mount St۔ Mathew chapter V to VII۔ ( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۵۱۹ تا ۵۲۱) ( مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ) مصدق کے معنے قرآنی طور پر یہ ہیں کہ جو کچھ صحیح تھا اس کی تو نقل کر دی اور اس نئی زندگی کا طر ز طریق کیا تھا دستخط جے اے لیفیر ائے بشپ لاہور جو نہیں لیا وہ غلط تھا پھر انجیلوں کا آپس میں اختلاف ہے اگر قرآن نے تصدیق کی ہے تو بتلاؤ کون سی انجیل کی کی ہے؟ قرآن نے یوحنامتی وغیرہ کی انجیل کی کہیں تصدیق نہیں کی۔ ہاں! پطرس کی دعا کی تصدیق کی ہے اسی طرح کون سی تو ریت کہیں جس کی تصدیق قرآن نے کی؟ پہلے توریت تو ایک بتاؤ! قرآن تو تمہاری توریت کو محرف بتلاتا ہے اور تم میں خود اختلاف ہے کہ توریت مختلف ہیں۔ البدر جلد نمبر ۲ مورخہ ۷ رنومبر ۱۹۰۲ ء صفحہ ۱۰) قرآن شریف انجیل کی تصدیق قول سے نہیں کرتا بلکہ فعل سے کرتا ہے کیونکہ جو حصہ انجیل کی تعلیم کا قرآن کے اندر شامل ہے اس پر قرآن نے عمل درآمد کروا کے دکھلا دیا ہے اور اسی لیے ہم اسی حصہ انجیل کی تصدیق کر سکتے ہیں جس کی قرآن کریم نے تصدیق کی ہمیں کیا معلوم کہ باقی کا رطب و یابس کہاں سے آیا ؟ ہاں ! اس پر یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ پھر آیت : وَلْيَحْكُمُ أَهْلُ الْإِنْجِيلِ میں جو لفظ انجیل عام ہے اس سے کیا مراد ہے، وہاں یہ بیان نہیں ہے کہ انجیل کا وہ حصہ جس کا مصدق قرآن ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں الانجیل سے مراد اصل انجیل اور توریت ہے جو قرآن کریم میں درج ہو چکیں ۔ اگر یہ نہ مانا جاوے تو پھر بتلایا جاوے کہ اصلی انجیل کون سی ہے کیونکہ آج کل کی مروجہ اناجیل تو اصل ہو نہیں سکتیں ان کی اصلیت کسی کو معلوم ہے