تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 48 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 48

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لد ٧ سورة المائدة اور یہ ان کی نجات کے لیے کافی ہے۔ یہ اجتماع ضدین ہے اور قرآن کریم میں اختلاف ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر اپنی کتاب کو اختلاف سے پاک ٹھیرایا ہے کہ : وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا ( النساء : ۸۳) بلکہ وہ آیت جس کے معنی کو معترض نے یہود کی طرح محرف و مبدل کر دیا ہے وہ تو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق اس بشارت کی طرف اشارہ کرتی ہے جو تو رات اور انجیل میں موجود تھی ۔ گو یا خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ انہیں کیا ہو گیا ہے کہ وہ تو رات اور انجیل کی وصایا پر عمل نہیں کرتے اور اسلام قبول نہیں کرتے؟ ہاں ! اگر قرآن کریم کی عبارت میں صیغہ ماضی کا ہوتا اور وہ یہ نہ کہتا کہ وَ لْيَحْكُمُ بلکہ یہ کہتا: وَكَانَ النَّصَارَى يَحْكُمُونَ بِالْإِنْجِيلِ فَقَط یعنی عیسائی لوگ صرف انجیل کے مطابق فیصلے کرتے تھے تو یہ اس کے دعوئی پر ایک دلیل ہوتی۔ پھر آیت کے بقیہ الفاظ یعنی فِيْهِ هُدًى وَ نُور بھی انجیل کے مستقل شریعت ہونے پر کوئی دلیل نہیں۔ کیا زبور اور اس کے علاوہ انبیاء بنی اسرائیل کی دوسری کتابیں لوگوں کے لیے ہدایت نہ تھیں؟ کیا ان میں ظلمت اور تاریکی پائی جاتی تھی اور کوئی نوران میں نہیں تھا ؟ پس تو فکر کر اور جاہلوں سے نہ بن اور عیسائی خود اس بات پر متفق ہیں کہ عیسی علیہ السلام ان کے پاس کوئی نئی شریعت نہ لائے تھے۔ چنانچہ ہم یہاں جی ۔ اے لیفیر ائے بشپ لاہور ( یعنی اس علاقہ کے عیسائیوں کے امام ) کی شہادت نقل کرتے ہیں۔ اگر تو رو سیاہی اور ذلت سے ڈرتا ہے تو یہ شہادت تیرے لیے کافی ہے اور ہم نے مناسب سمجھا ہے کہ ہم اس شہادت کو علیحدہ حاشیہ میں نقل کریں۔ مجموعه اشتها رات جلد دوم صفحه ۱۲ ۵ تا ۵۱۵) حاشیہ نمبر ا بمع ترجمہ ذیل میں درج ہے ترجمه Bishops Bournes از مقام بشپس بورن واقعہ لاہور Lahore۔ مورخه ۱۵ اگست ۱۹۰۱ء Aug, 15,01 جناب خداوند یسوع مسیح ہر گز شارع نہ تھا جن was Dear Sir, The lord Jesus Christ معنوں میں حضرت موسیٰ صاحب شریعت تھا certainly not a law-giver in the جس نے ایک کامل مفصل شریعت ایسے امور in which Moses was senses