تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 44
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۴ سورة المائدة جائز ہوتا ہے حالانکہ اس موذی نے ابھی کوئی قتل و غیر ہ کیا نہیں ہوتا لے البدر جلد ۲ نمبر ۲۲ مورخه ۱۹/جون ۱۹۰۳ء صفحه ۱۷۰) اِنَّمَا جَزْوا الَّذِيْنَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقتَلُوا اَوْ يُصَلَّبُوا اَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ذَلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ۔یعنی سوا اس کے نہیں کہ بدلہ ان لوگوں کا کہ جو خدا اور رسول سے لڑتے اور زمین پر فساد کے لیے دوڑتے ہیں یہ ہے کہ وہ قتل کیے جائیں یا سولی دیئے جائیں یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف طرف سے کاٹے جائیں یا جلا وطن کر کے قید رکھے جائیں یہ رسوائی ان کی دنیا میں ہے اور آخرت میں بہت بڑا عذاب ہے۔پس اگر خدا تعالیٰ کے نزدیک ہمارے رسول کریم کی عدول حکمی اور اس کا مقابلہ کچھ چیز نہیں تھا تو ایسے منکروں کو جو موحد تھے (جیسا کہ یہودی ) انکار اور مقابلہ کی وجہ سے اس قدر سخت سزا یعنی طرح طرح کے عذابوں سے موت کی سزا دینے کے لیے خدا تعالیٰ کی کتاب میں کیوں حکم لکھا گیا اور کیوں ایسی سخت سزائیں دی گئیں کیونکہ دونوں طرف موحد تھے اس طرف بھی اور اُس طرف بھی اور کسی گروہ میں کوئی مشرک نہ تھا اور باوجود اس کے یہودیوں پر کچھ بھی رحم نہ آیا اور ان موحد لوگوں کو محض انکار اور مقابلہ رسول کی وجہ سے بری طرح قتل کیا گیا یہاں تک کہ ایک دفعہ دس ہزار یہودی ایک ہی دن میں قتل کیے گئے حالانکہ انہوں نے صرف اپنے دین کی حفاظت کے لیے انکار اور مقابلہ کیا تھا اور اپنے خیال میں پکے موحد تھے اور خدا کو ایک جانتے تھے۔ہاں! یہ بات ضرور یاد رکھو کہ بیشک ہزاروں یہودی قتل کیے گئے مگر اس غرض سے نہیں کہ تا وہ مسلمان ہو جائیں بلکہ محض اس غرض سے کہ خدا کے رسول کا مقابلہ کیا اس لیے وہ خدا کے نزدیک مستوجب سزا ہو گئے اور پانی کی طرح ان کا خون زمین پر بہایا گیا۔پس ظاہر ہے کہ اگر توحید کافی ہوتی تو یہودیوں کا کوئی جرم نہ تھا وہ بھی تو موحد تھے وہ محض انکار اور مقابلہ رسول کی وجہ سے کیوں خدا تعالیٰ کے نزدیک قابل سز ا ٹھیرے۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۶۱، ۱۶۲) لے قانون قدرت ہمیں اس قانون کے رواج کا نشان دیتا ہے قرآن کریم اور دیگر کسی شریعت آسمانی نے بھی یہی جائز رکھا اور عقل انسانی بھی اسی قتل حفظ ماتقدم کے لیے سبق دیتی ہے۔(احکم جلدے نمبر ۲۳ مورخہ ۲۴ جون ۱۹۰۳ صفحه ۱۵)