تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 43
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فِي الْأَرْضِ لَمُسْرِفُونَ ۴۳ سورة المائدة ( مَنْ قَتَلَ نَفْسًا۔۔۔۔۔۔قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا ) جس نے ایک انسان کو ناحق بے موجب قتل کر دیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر ڈالا۔( براہین احمدیہ چهار تص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۴۲۶،۴۲۵ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) یہ بالکل خطا ہے کہ اسی ایک امر کو پلے باندھ لو کہ طاعون والے سے پر ہیز کریں تو طاعون نہ ہوگا۔پر ہیز کرو جہاں تک مناسب ہے لیکن اس پر ہیز سے باہمی اخوت اور ہمدردی نہ اٹھ جاوے اور اس کے ساتھ ہی خدا تعالیٰ کے ساتھ سا تعلق پیدا کرو۔یا درکھو کہ مردہ کی تجہیز و تکفین میں مدد دینا اور اپنے بھائی کی ہمدردی کرنا صدقات خیرات کی طرح ہی ہے یہ بھی ایک قسم کی خیرات ہے اور یہ حق حق العباد کا ہے جو فرض ہے۔۔۔۔جو شخص ہمدردی کو چھوڑتا ہے وہ دین کو چھوڑتا ہے۔قرآن شریف فرماتا ہے : مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَاد الآية یعنی جو شخص کسی نفس کو بلا وجہ قتل کر دیتا ہے وہ گویا ساری دنیا کو قتل کرتا ہے ایسا ہی میں کہتا ہوں کہ اگر کسی شخص نے اپنے بھائی کے ساتھ ہمدردی نہیں کی تو اس نے ساری دنیا کے ساتھ ہمدردی نہیں کی۔انتقام جلد ۹ نمبر ۱۵ مورخه ۳۰ را پریل ۱۹۰۵ صفحه ۲) جس شخص نے ایسے شخص کو قتل کیا کہ اس نے کوئی ناحق کا خون نہیں کیا تھا یا کسی ایسے شخص کو قتل کیا جو نہ بغاوت کے طور پر امن عامہ میں خلل ڈالتا تھا اور نہ زمین میں فساد پھیلاتا تھا تو اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا یعنی بے وجہ ایک انسان کو قتل کر دینا خدا کے نزدیک ایسا ہے کہ گویا تمام بنی آدم کو ہلاک کر دیا۔ان آیات سے ظاہر ہے کہ بے وجہ کسی انسان کا خون کرنا کس قدر اسلام میں جرم کبیر ہے۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۹۴) مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْس کے ساتھ آگے او فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ بھی لکھا ہے۔فساد کا لفظ وسیع ہے جو شے کسی زمانہ میں فساد کا موجب ہو سکتی ہے وہ آئندہ زمانہ میں قتل نفس کا۔۔۔موجب بھی ہو سکتی ہے۔حشرات الارض کو ہم دیکھتے ہیں کہ سینکڑوں ہزاروں روز مارے جاتے ہیں اس لیے کہ وہ کسی کی ایڈا کا موجب نہ ہوں چنا نچہ لکھا ہے کہ قتل الموذی قبل الاین تو ہر ایک موذی شے کا قتل اس کے ایذا دینے سے قبل