تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 42 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 42

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲ سورة المائدة ہو جائیں گے اس کے بعد نیکیاں ہی سرزد ہوں گی۔جب تک انسان متقی نہیں بنتا یہ جام اسے نہیں دیا جاتا اور نہ اس کی عبادات اور دعاؤں میں قبولیت کا رنگ پیدا ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ یعنی بیشک اللہ تعالیٰ متقیوں ہی کی عبادات کو قبول فرماتا ہے۔یہ بالکل سچی بات ہے کہ نماز ، روزہ بھی متقیوں ہی کا قبول ہوتا ہے۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۴ مؤرخہ ۱۰؍جولائی ۱۹۰۶ صفحه ۲) پہلے ایمان کو درست کرو، یہ ریاضتیں جو طریقہ نبوی سے باہر ہیں یہ تو کسی کام نہ آئیں گی اور نہ منزل مقصود کو پہنچائیں گی دیکھو بعض جوگی اس قدر ریاضتیں کرتے ہیں کہ اپنے باز وسکھا دیتے ہیں مگر اللہ کے نزدیک مقبول نہیں کیونکہ ایک تو ارشاد نبوی کے خلاف، دوم ایمان ہی نہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِینَ یعنی اللہ ان کی عبادت قبول کرتا ہے جو خدا سے ڈرتے ہیں اور ڈرنے کا نتیجہ یہ ہے کہ اس کے منشاء کے مطابق کام کرتے ہیں اور سب سے پہلا کام تو یہ ہے کہ اس کے مامور کو مانیں۔دیکھو! یہودی خدا کو مانتے ہیں اور مشرک بھی نہیں۔قبلہ بھی ان کا وہ ہے جو پہلے مسلمانوں کا رہ چکا ہے مگر پھر بھی خدا کے حضور مقبول نہیں صرف اس لیے کہ اللہ کے رسول کو نہ مانا۔رسولوں کو نہ ماننے سے وہی جنہیں عالمین پر فضیلت دی گئی تھی ملعون ہوئے کیونکہ گناہ تو اور بھی ہیں مگر سب سے بڑا گناہ مامور من اللہ کا انکار ہے۔(البدر جلد نمبر ۲ مورخه ۱۶ جنوری ۱۹۰۸ء صفحه ۳) انسان کو چاہیے کہ نیکی میں کوشش کرے اور ہر وقت دعا میں لگا رہے۔یقیناً جانو کہ جماعت کے لوگوں میں اور ان کے غیر میں اگر کوئی ما بہ الامتیاز ہی نہیں ہے تو پھر خدا کوئی کسی کا رشتہ دار تو نہیں ہے۔کیا وجہ ہے کہ ان کو عزت دے اور ہر طرح حفاظت میں رکھے اور ان کو ذلت دے اور عذاب میں گرفتار کرے؟ انما يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ - متقی وہی ہیں کہ خدا سے ڈر کر ایسی باتوں کو ترک کر دیتے ہیں جو منشاء الہی کے خلاف ہیں نفس اور خواہشات نفسانی کو اور دنیا و مافیہا کو اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں بیج سمجھیں۔ایمان کا پتہ مقابلے کے وقت لگتا ہے۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۶ مورخه ۲ مارچ ۱۹۰۸ صفحه ۵) مِنْ أَجلِ ذَلِكَ كَتَبْنَا عَلَى بَنِي إِسْرَاءِ يُلَ أَنَّهُ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَانَمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَ مَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا وَلَقَدْ جَاءَتُهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَيِّنَتِ ثُمَّ إِنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ