تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 41
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱ سورة المائدة اللہ تعالیٰ متقیوں کی دعائیں قبول کرتا ہے جو لوگ متقی نہیں ہیں ان کی دعائیں قبولیت کے لباس سے منگی ہیں۔ہاں! اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور رحمانیت ان لوگوں کی پرورش میں اپنا کام کر رہی ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱۱ مورخه ۲۴/ مارچ ۱۹۰۱ء صفحه ۲) جن لوگوں نے جلد بازی کے ساتھ بدظنی کر کے اس سلسلہ کو جو اللہ تعالی نے قائم کیا ہے رد کر دیا ہے اور اس قدر نشانوں کو ( دیکھ کر ) پروانہیں کی اور اسلام پر جو مصائب ہیں اس سے لا پروا پڑے ہیں ان لوگوں نے تقویٰ سے کام نہیں لیا اور اللہ تعالیٰ اپنے پاک کلام میں فرماتا ہے کہ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ خدا صرف متقی لوگوں کی نماز قبول کرتا ہے اس واسطے کہا گیا ہے کہ ایسے آدمی کے پیچھے نماز نہ پڑھو جس کی نماز خود قبولیت کے درجہ تک پہنچنے والی نہیں۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱۰ مورخه ۷ ار مارچ ۱۹۰۱ صفحه ۸)۔۱۷ خدا تعالیٰ نے ذاتوں اور قوموں کو اڑا دیا ہے یہ دنیا کے انتظام اور عرف کے لیے قبائل ہیں۔مگر ہم نے خوب غور کر لیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے حضور جو مدارج ملتے ہیں ان کا اصل باعث تقویٰ ہی ہے۔جو متقی ہے وہ جنت میں جائے گا خدا تعالیٰ اس کے لیے فیصلہ کر چکا ہے۔خدا تعالیٰ کے نزدیک معزز متقی ہی ہے پھر یہ جو فرمایا ہے : إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ کہ اعمال اور دعائیں متقیوں کی قبول ہوتی ہیں یہ نہیں کہا کہ من الحکم جلد ۶ نمبر ۳۰ مورخه ۲۴ راگست ۱۹۰۲ صفحه ۱۰) السيدين۔جب تک انسان اپنا ایمان اس حد تک نہیں پہنچا تا کہ سنت سے فائدہ اٹھا وے تو خدا ( تعالی ) کیسے اس کے لیے سنت بدل دیوے۔البدر جلد ۲ نمبر ۱۱ مورخه ۱٫۳ پریل ۱۹۰۳ صفحه ۸۳) اللہ تعالیٰ کی اجابت بھی متقین کے لیے ہے چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ من المتقين در حقیقت جب تک انسان تقوی اختیار نہ کرے اس وقت تک اللہ تعالیٰ اس کی طرف رجوع نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ کی ذات میں بے نظیر صفات ہیں جو لوگ اس کی راہ پر چلتے ہیں انہیں کو اس سے اطلاع ملتی ہے اور وہی اس سے مزہ پاتے ہیں۔خدا سے رشتہ میں اس قدر شیرینی اور لذت ہوتی ہے کہ کوئی پھل ایسا شیریں نہیں ہوتا۔(البدرجلد ۳ نمبر ۲۵ مورخہ یکم جولائی ۱۹۰۴ ء صفحه ۵) بار بار قرآن شریف کو پڑھو اور تمہیں چاہیے کہ برے کاموں کی تفصیل لکھتے جاؤ اور پھر خدا تعالیٰ کے فضل اور تائید سے کوشش کرو کہ ان بدیوں سے بچتے رہو۔یہ تقویٰ کا پہلا مرحلہ ہو گا جب تم ایسی سعی کرو گے تو اللہ پھر تمہیں توفیق دے گا اور وہ کا فوری شربت تمہیں دیا جاوے گا جس سے تمہارے گناہ کے جذبات بالکل سرد