تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 37 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 37

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷ سورة المائدة احِباوُہ۔کہ ہم خدا کے پیارے اور بمنزلہ اس کی اولاد کے ہیں تو اس کا جواب خدا تعالیٰ نے یہ دیا: قُلُ فَلِمَ يُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوبِكُمْ کہ اگر تم خدا کے پیارے اور بمنزلہ اس کی اولاد کے ہو تو پھر تمہاری شامت اعمال پر تم کو وہ دکھ اور تکالیف کیوں دیتا ہے پس اس سے ثابت ہے کہ جو خدا کے پیارے ہوتے ہیں ان کو دنیا میں دکھ نہیں ہوتا اور وہ ہر ایک قسم کے عذاب سے محفوظ ہوتے ہیں۔پس اگر اس کے پیاروں کو عذاب ہوتا رہے تو پھر کافروں میں اور ان میں کیا فرق ہوا ؟ (البدر جلد ۲ نمبر ۴۵ مورخہ یکم دسمبر ۱۹۰۳ء صفحه ۳۵۵) خوب یا درکھو کہ جب تک خدا تعالیٰ سے رشتہ نہ ہو اور سچا تعلق اس کے ساتھ نہ ہو جاوے کوئی چیز نفع نہیں دے سکتی۔یہودیوں کو دیکھو کہ کیا وہ پیغمبروں کی اولاد نہیں یہی وہ قوم ہے جو اس پر ناز کیا کرتی تھی اور کہا کرتی تی: نَحْنُ ابْنُوا اللهِ وَاحِباؤُه ہم اللہ کے فرزند اور اس کے محبوب ہیں مگر جب انہوں نے خدا تعالیٰ سے رشتہ توڑ دیا اور دنیا ہی دنیا کو مقدم کر لیا، کیا نتیجہ ہوا ؟ خدا تعالیٰ نے اسے سؤر اور بند رکہا اور اب جو حالت ان کی مال و دولت ہوتے ہوئے بھی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔اکام جلد ۹ نمبر ۳۹ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۵ صفحه ۶) اللہ تعالیٰ نے جو ہم کو مخاطب کیا ہے کہ انت منی بمنزلة اولا دینی۔اس جگہ یہ تو نہیں کہا کہ تو میری اولاد ہے بلکہ یہ کہا ہے کہ بمنزلہ اولاد کے ہے یعنی اولاد کی طرح ہے اور دراصل یہ عیسائیوں کی اس بات کا جواب ہے جو وہ حضرت عیسیٰ کو حقیقی طور پر ابن اللہ مانتے ہیں حالانکہ خدا کی کوئی اولاد نہیں اور خدا نے یہودیوں کے اس قول کا عام طور پر کوئی رد نہیں کیا جو کہتے تھے کہ نَحْنُ ابنوا اللهِ وَاحِباؤُهُ۔بلکہ یہ ظاہر کیا ہے کہ تم ان ناموں کے مستحق نہیں ہو۔دراصل یہ ایک محاورہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے برگزیدوں کے حق میں اکرام کے طور پر ایسے الفاظ بولتا ہے جیسا کہ حدیثوں میں ہے کہ میں اس کی آنکھ ہو جاتا ہوں اور میں اس کے ہاتھ ہو جاتا ہوں اور جیسا کہ حدیثوں میں ہے کہ اے بندے ! میں پیاسا تھا تو نے مجھے پانی نہ دیا اور میں بھوکا تھا تو نے مجھے روٹی نہ دی۔ایسا ہی تو ریت میں بھی لکھا ہے کہ یعقوب خدا کا فرزند بلکہ نخست زادہ ہے۔سو یہ سب استعارے ہیں۔جو عام طور پر خدا تعالیٰ کی عام کتابوں میں پائے جاتے ہیں اور احادیث میں ہے اور خدا تعالیٰ نے یہ الفاظ میرے حق میں اسی واسطے استعمال کیے ہیں کہ تا عیسائیوں کا رد ہو کیونکہ باوجود ان لفظوں کے میں کبھی ایسا دعوی نہیں کرتا کہ نعوذ باللہ ! میں خدا کا بیٹا ہوں بلکہ ایسا دعویٰ کرنا کفر سمجھتے ہیں اور ایسے الفاظ جو انبیاء کے حق میں خدا تعالیٰ نے بولے ہیں ان میں سب سے زیادہ اور سب سے بڑا عزت کا خطاب