تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 34
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴ سورة المائدة وَيَشْهَدُ بِصَوْتٍ عَالٍ عَلَى أَنَّ الْيَهُودَ آواز سے یہ گواہی دے رہا ہے کہ یہود اور نصاری قیامت وَالنَّصَارَى يَبْقُونَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ كَمَا تک موجود رہیں گے جیسا کہ اللہ عز وجل فرماتا ہے: قَالَ عَزَّ وَجَلَّ: فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ اور وَ الْبَغْضَاء إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ وَمَعْلُومٌ أَنَّ ظاہر ہے کہ دشمنی اور بغض کا وجود دشمنوں اور بغض رکھنے وُجُودَ الْعَدَاوَةِ وَالْبَغْضَاء فَرْعُ لِوُجُودِ والوں کے وجود ہی کی فرع ہے جو ان کے موجود ہونے الْمُعَائِدِينَ وَالْمُبَاغِضِينَ، وَلَا يَتَحَقَّقُ إِلَّا کے بغیر تحق نہیں ہو سکتی اور ہم یہ بات متواتر اور بار بار بَعْدَ وُجُودِهِمْ وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ بیان کر آئے ہیں تا کہ لوگ نصیحت پکڑیں اور اپنے انجام وَقُلْنَا غَيْرَ مَرَّةٍ لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ أَو سے ڈریں۔ پس اس بات پر ہم کس طرح ایمان لا سکتے يَكُونُونَ مِنَ الْخَائِفِينَ فَكَيْفَ نُؤْمِنُ بِأَنَّ ہیں کہ جملہ مذاہب کے پیرو کارکسی وقت تمام کے تمام أَهْلَ الْمِلَلِ كُلَّهَا تَهْلِكُ فِي وَقْتِ مِن ہلاک ہو جائیں گے؟ کیا ہم قرآن مبین کی آیات کا انکار الْأَوْقَاتِ أَتَكْفُرُ بِآيَاتِ كِتَابٍ مُّبِين کردیں؟ ( ترجمه از مرتب ) (حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلدی صفحه (۲۳۹) | اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے : فَاغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ اور پھر دوسری جگہ فرماتا ہے : وَ الْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلى يَوْمِ الْقِيمَةِ (المائدة : ۶۵ ) ۔ ان آیتوں کے یہ معنے ہیں کہ ہم نے قیامت تک یہود اور نصاری میں دشمنی اور عداوت ڈال دی ہے پس اگر آیت ممدوحہ بالا کے یہ معنے ہیں کہ قیامت سے پہلے تمام یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے تو اس سے لازم آتا ہے کہ کسی وقت یہود و نصاری کا بغض باہمی دور بھی ہو جائے گا اور یہودی مذہب کا تخم زمین پر نہیں رہے گا حالانکہ قرآن شریف کی ان آیات سے اور کئی اور آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ یہودی مذہب قیامت تک رہے گا ۔ ہاں ! ذلت اور مسکنت ان کے شامل حال ہوگی اور وہ دوسری طاقتوں کی پناہ میں زندگی بسر کریں گے۔ ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۱ ۲ صفحه ۴۰۹) قرآن کریم اس بات کا گواہ ہے کہ سلسلہ کفر کا بلافصل قیامت کے دن تک قائم رہے گا اور یہ کبھی نہیں ہوگا کہ سب لوگ ایک ہی مذہب پر ہو جائیں اور اختلاف کفر اور ایمان اور بدعت اور توحید کا درمیان سے اُٹھ جائے چنانچہ اس اختلاف کو اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ضروری الوجود انسانوں کی فطرت کیلئے قرار دیتا ہے اور