تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 26 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 26

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶ سورة المائدة تھی جس کے فرمایا گیا تھا الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِی اب اس تکمیل میں دوخو بیاں تھیں ایک تکمیل ہدایت اور دوسری تکمیل اشاعت ہدایت۔تکمیل ہدایت کا زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا پہلا زمانہ تھا اور تکمیل اشاعت ہدایت کا زمانہ آپ کا دوسرا زمانہ ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۴۳ مورخه ۳۰/نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۲،۱) میں جانتا ہوں کہ جن لوگوں نے ان ارکان کو چھوڑ کر اور بدعتیں تراشی ہیں یہ ان کی اپنی شامت اعمال ہے ورنہ قرآن شریف تو کہہ چکا تھا الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ - اکمال دین ہو چکا تھا اور اتمام نعمت بھی۔خدا کے حضور پسندیدہ دین اسلام ٹھہر چکا تھا۔اب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال خیر کی راہ چھوڑ کر اپنے طریقے ایجاد کرنا اور قرآن شریف کی بجائے اور وظائف اور کافیاں پڑھنا یا اعمال صالحہ کے بجائے قسم قسم کے ذکر اذکار نکال لینا یہ لذت روح کے لیے نہیں ہے بلکہ لذت نفس کی خاطر ہے۔لوگوں نے لذت نفس اور لذت روح میں فرق نہیں کیا اور دونوں کو ایک ہی چیز قرار دیا ہے حالانکہ وہ دو مختلف چیزیں ہیں اگر لذت نفس اور لذت روح ایک ہی چیز ہے تو میں پوچھتا ہوں کہ ایک بدکار عورت کے گانے سے بد معاشوں کو زیادہ لذت آتی ہے، کیا وہ اس لذت نفس کی وجہ سے عارف باللہ اور کامل انسان مانے جائیں گے؟ ہر گز نہیں ! جن لوگوں نے خلاف شرع اور خلاف پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم راہیں نکالی ہیں ان کو یہی دھوکا لگا ہے کہ وہ نفس اور روح کی لذت میں کوئی فرق نہیں کر سکتے ورنہ وہ ان بیہودگیوں میں روح کی لذت اور اطمینان نہ پاتے۔ان میں نفسِ مطمونہ نہیں ہے جو بلہے شاہ کی کافیوں میں لذت کے جو یاں ہیں، روح کی لذت قرآن شریف سے آتی ہے۔اپنی شامت اعمال کو نہیں سوچا ان اعمال خیر کو جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تھے، ترک کر دیا اور ان کی بجائے خود تراشیدہ در و د وظائف داخل کر لیے اور چند کا فیوں کا حفظ کر لینا کافی سمجھا گیا۔بلہے شاہ کی کافیوں پر وجد میں آجاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف کا جہاں وعظ ہو رہا ہو وہاں بہت ہی کم لوگ جمع ہوتے ہیں لیکن جہاں اس قسم کے مجمع ہوں وہاں ایک گروہ کثیر جمع ہو جاتا ہے۔نیکیوں کی طرف سے یہ کم رغبتی اور نفسانی اور شہوانی امور کی طرف توجہ صاف ظاہر کرتی ہے کہ لذت روح اور لذت نفس میں ان لوگوں نے کوئی فرق نہیں سمجھا ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۲۷ مورخه ۳۱/ جولائی ۱۹۰۲ ء صفحہ ۸۰)