تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 22
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲ سورة المائدة فرمائے تھے اور کوئی فرد بشر بھی اس کا بال نہ بگاڑ سکا حتی کہ ندا آگئی : الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ ( وَاتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا - البدر جلد ۲ نمبر ۱۱ مورخه ۳ را پریل ۱۹۰۳ ء صفحه ۸۲) ہم اعجازی احیاء کے قائل ہیں مگر یہ بات بالکل ٹھیک نہیں ہے کہ ایک مردہ اس طرح زندہ ہوا ہو کہ وہ پھر اپنے گھر میں آیا اور رہا اور ایک اور عمر اس نے بسر کی اگر ایسا ہوتا تو قرآن ناقص ٹھہرتا ہے کہ اس نے ایسے شخص کی وراثت کے بارے میں کوئی ذکر نہ کیا اور اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ کیا ہوا ؟ البدر جلد ۲ نمبر ۱۵ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ء صفحه ۱۱۶) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جس زمانہ میں مبعوث ہوئے ، کیا ان کی نسبت اہل الرائے کی یہ رائے تھی ۔ کون تھا جو یقین کرتا کہ ایک غریب ( آنحضرت صلعم) کے پاس نہ قوت ، نہ شوکت ، نہ فوج ، نہ مال ہے اور ہر طرف مخالفت ہے وہ کامیاب ہو کر رہے گا اور جو وعدے فتح اور نصرت اور اقبال مندی کے وہ دیتا ہے پورے ہو کر رہیں گے؟ مگر باوجود اس نا امیدی کے پھر کیسی امید بندھ گئی اور تمام وعدے پورے ہو گئے الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ کی گواہی مل گئی ۔ البدر جلد ۳ نمبر ۱۰ مورخه ۸ مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۴) صحابہ کرام سارے ہی با خدا اور عاقل تھے مگر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) ان سے بڑھ کر ایسے وفادار تھے کہ کوئی سمجھ ہی نہیں سکتا تھا۔ اسی لیے آپ کو سانپوں اور درندوں اور خاردار کانٹوں والا جنگل، اس کے درندے، حیوانات انسانی شکل میں دکھلائے گئے پھر ملک بھی ایسا اس کے سپرد کیا کہ جس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی شریر النفس نہ تھا۔ پھر آئے ایسے وقت پر کہ تمام مردہ اور ف ایسے وقت پر کہ تمام مردہ اور فساد کی جڑ تھے جیسے فرمایا: ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ ( الروم : ۴۲ ) اور گئے ایسے وقت پر کہ فرمایا : الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ اتْمَمْتُ عَلَيْكُمُ نِعْمَتِي الآية - إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ الآية ( النصر : ۲) ۔ اس کو معجزہ کہتے ہیں اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کتنی محبت الہی اور قوت جاذ بہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اندر تھی ۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۳۹،۳۸ مورخه ۱۰ تا ۱۷ رنومبر ۱۹۰۴ صفحه ۸) اسلام کے ثمرات اب بھی ایسے ہی ہیں اگر کوئی ان پھلوں کو نہیں کھاتا تو اسلام کا کیا قصور؟ طبیب اگر ایک نسخہ بتادے اور کوئی اسے استعمال نہ کرے تو اس میں طبیب کا تو کوئی قصور نہیں ہے۔ اسلام میں یہ ایسی نعمت ہے جو کسی اور دین میں نہیں مل سکتی۔ اسی کی طرف اشارہ کر کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ اتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِی لیکن یہ نعمت نہیں مل سکتی جب تک اس طرف قدم نہ اٹھاوے اور