تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 16 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 16

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶ سورة المائدة الْوَاقِعَةِ، بَلْ كَانَ الْوَاجِبُ في هذهِ الصُّورَةِ أَن يَقُول کہ یوں کہتا کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِنِّي مَا أَنْزَلْتُ هَذَا الْقُرْآنَ پر قرآن کو کامل نہیں اتارا بلکہ آخر زمانہ میں كَامِلًا عَلى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلْ سَأُنْزِلُ عیسی بن مریم پر اس کی کچھ آیات اتاروں بَعْضَ ايَاتِهِ عَلَى عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ گالپس اس دن قرآن کامل ہوگا اور ابھی فَيَوْمَئِذٍ يَكْمُلُ الْقُرْآنُ وَمَا كَمَلَ إلى هَذَا الْحين۔کامل نہیں۔( ترجمہ از مرتب) (حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۲۰۰ تا ۲۰۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے وقت میں دنیا سے اپنے مولیٰ کی طرف بلائے گئے جبکہ وہ اپنے کام کو پورے طور پر انجام دے چکے اور یہ امر قرآن شریف سے بخوبی ثابت ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا یعنی آج میں نے قرآن شریف کے اتارنے اور تکمیل نفوس سے تمہارا دین تمہارے لئے کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمہارے لئے دین اسلام پسند کر لیا۔حاصل مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید جس قدر نازل ہونا تھا نازل ہو چکا اور مستعد دلوں میں نہایت عجیب اور حیرت انگیز تبدیلیاں پیدا کر چکا اور تربیت کو کمال تک پہنچا دیا اور اپنی نعمت کو ان پر پورا کر دیا اور یہی دور کن ضروری ہیں جو ایک نبی کے آنے کی علت غائی ہوتے ہیں۔اب دیکھو! یہ آیت کس زور شور سے بتلا رہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرگز اس دنیا سے کوچ نہ کیا جب تک کہ دین اسلام کو تنزیل قرآن اور تکمیل نفوس سے کامل نہ کیا گیا * اور یہی ایک خاص علامت منجانب اللہ ہونے کی ہے جو کا ذب کو ہر گز نہیں دی جاتی بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی صادق نبی نے بھی اس اعلیٰ شان کے کمال کا نمونہ نہیں دکھلایا کہ ایک طرف کتاب اللہ بھی آرام اور امن کے ساتھ پوری ہو جائے اور دوسری طرف تکمیل نفوس بھی ہو اور بایں ہمہ کفر کو ہریک پہلو سے شکست اور اسلام کو ہر یک پہلو سے فتح ہو۔( نور القرآن نمبر ا ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۴۲ تا ۳۵۴) خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں صحابہ کو مخاطب کیا کہ میں نے تمہارے دین کو کامل کیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کی اور آیت کو اس طور سے نہ فرمایا کہ اے نبی ! آج میں نے قرآن کو کامل کر دیا ، اس میں حکمت یہ ہے کہ تا ظاہر ہو کہ صرف قرآن کی تکمیل نہیں ہوئی بلکہ ان کی تکمیل بھی ہوگئی کہ جن کو قرآن پہنچایا گیا اور رسالت کی علت غائی کمال تک پہنچ گئی۔منہ