تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 15 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 15

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵ سورة المائدة كَمَا لا يخفى عَلَى الْمُسْلِمِينَ۔وَكَيْفَ تجيني مسلمانوں پر پوشیدہ نہیں اور آنحضرت کے بعد کوئی نَبِي بَعْدَ رَسُولنا صلعم وَقَدِ انْقَطعَ الْوَخئ نبی کیوں کر آوے حالانکہ آپ کی وفات کے بعد وحی بَعْدَ وَفَاتِهِ وَخَتَمَ اللهُ بِهِ النَّبِيِّينَ أَنعَتَقِدُ نبوت منقطع ہو گئی ہے اور آپ کے ساتھ نبیوں کو ختم بِأَنَّ عِيسَى الَّذِى أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْإِنجِيْلُ هُوَ کر دیا ہے۔کیا ہم اعتقاد کر لیں کہ ہمارے نبی خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ ، لَا رَسُوْلُنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ خاتم الانبیاء نہیں بلکہ عیسی جو صاحب انجیل ہے وہ وَسَلَّمَ أَنعْتَقِدُ أَنَّ ابْنَ مَرْيَمَ يَأْتِي وَيَنْسَحُ خاتم الانبیاء ہے یا ہم یہ اعتقاد رکھیں کہ ابن مریم آکر قرآن کے بعض احکام کو منسوخ اور کچھ زیادہ کرے بَعْضَ أَحْكامِ الْقُرْآنِ وَيَزِيدُ بَعْضًا فَلَا گا اور نہ جزیہ لے گا اور نہ جنگ چھوڑے گا حالانکہ يَقْبَلُ الْجِزْيَةَ وَلَا يَضَعُ الْحَرْبَ، وَقَدْ أَمَرَ اللهُ اللہ کا ارشاد ہے کہ جزیہ لے لو اور جزیہ لینے کے بعد بِأَخْذِهَا وَأَمَرَ بِوَضْعِ الْحَرْبِ بَعْدَ أَخْنِ الْجِزْيَةِ؟ أَلَا تَقْرَأُ ايَةَ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَهُمْ ؟ لے جنگ چھوڑ دو۔کیا تو یہ آیت نہیں پڑھتا کہ ذلت کے ساتھ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیوئیں۔پس قرآن کے وهم صغرُونَ فَكَيْفَ يَنْسَحُ الْمَسِيحُ محلمات کو کیوں کر مسیح منسوخ کرے گا اور کتاب مُحْكَمَاتِ الْفُرْقَانِ: وَكَيْفَ يَتَصَرِّفُ في عزیز میں کیوں کر تصرف کر کے کچھ احکام کو تکمیل الْكِتَابِ الْعَزِيزِ وَيَطْمِسُ بَعْضَ أَحْكامِهِ بَعْد کے بعد مٹادے گا؟ میں تعجب کرتا ہوں کہ وہ فرقان تكميلها فَأَنجَبَنِي أَنَّهُمْ يَجْعَلُوْنَ کے بعض احکام کا مسیح کو ناسخ بناتے ہیں اور اس آیت الْمَسِيحَ تَاسِعَ بَعْضِ أَحْكَامِ الْفُرْقَانِ وَلَا کو نہیں دیکھتے کہ آج میں نے تمہارے دین کو يَنْظُرُونَ إِلَى أَيَةِ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ تمہارے لیے کامل کر دیا ہے اور وہ فکر نہیں کرتے اگر وَلَا يَتَفَكَّرُوْنَ أَنَّهُ لَوْ كَانَتْ لِتَكْمِيْلِ دِينِ دین اسلام کی تکمیل کے لیے کوئی حالت منتظرہ ہوتی الْإِسْلَامِ حَالَةٌ مُنْتَظَرَةٌ يُرجى ظُهُورُهَا بَعْدَ جو کئی ہزار سال گزرنے کے بعد اس کے ظہور کی الْقِضَاءِ أُلُوْفِ مِنَ السَّنَوَاتِ لَفَسَدَ مَعْلی امید ہو سکتی تو قرآن کے ساتھ اکمال دین ہونا فاسد ہو- إِكْمَالِ الدِّينِ وَالْفَرَاغِ مِنْ كَمَالِهِ بِانْزَالِ ہو جاتا اور خدا کا یہ کہنا کہ آج میں نے تمہارے الْقُرْآنِ، وَلَكَانَ قَوْلُ اللہ عَزَّوَجَلَّ الْيَوْمَ دین کو تمہارے لیے کامل کر دیا ہے جھوٹ اور أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ مِنْ نَوعِ الْكَذِبِ وَخِلافِ خلاف واقع ہو جا تا بلکہ اس صورت میں تو واجب تھا التوبة : ٢٩