تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 14
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴ سورة المائدة مطالب یہ ہوتے تھے کہ تا ان کے موجودہ زمانہ میں جو لوگ تعلیم توریت سے دور پڑ گئے ہوں پھر ان کو توریت کے اصلی منشاء کی طرف کھینچیں اور جن کے دلوں میں کچھ شکوک اور دہریت اور بے ایمانی ہوگئی ہوان کو پھر زندہ ایمان بخشیں چنانچہ اللہ جل شانہ خود قرآن کریم میں فرماتا ہے: وَ لَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَبَ وَقَفَّيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ ( البقرة : ۸۸) یعنی موسیٰ کو ہم نے توریت دی اور پھر اس کتاب کے بعد ہم نے کئی پیغمبر بھیجے تا تو ریت کی تعلیم کی تائید اور تصدیق کریں اسی طرح دوسری جگہ فرماتا ہے : ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تترا ( المؤمنون : ۴۵) یعنی پھر پیچھے سے ہم نے اپنے رسول پے در پے بھیجے ۔ پس ان تمام آیات سے ظاہر ہے کہ عادت اللہ یہی ہے کہ وہ اپنی کتاب بھیج کر پھر اس کی تائید اور تصدیق کے لئے ضرور انبیاء بھیجا کرتا ہے چنانچہ توریت کی تائید کے لئے ایک ایک وقت میں چار چار سو نبی بھی آیا جن کے آنے پر اب تک بائبل شہادت دے رہی ہے۔ (شهادة القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۳۹ تا ۳۴۱) وَأَمَّا ذِكْرُ نُزُولِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فَمَا اور جو عیسی بن مریم کے نزول کا ذکر ہے پس کسی كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَحْمِلَ هَذَا الْإِسْمَ الْمَذْكُورَ فِي | مومن کے لیے جائز نہیں کہ احادیث میں اس نام کو ظاہر الْأَحَادِيثِ عَلَى ظَاهِرِ مَعْنَاهُ، لِأَنَّهُ پر محمول کرے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کے اس قول کے يُخَالِفُ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاً خلاف ہے کہ ہم نے محمد کو کسی مرد کا باپ نہیں بنایا۔ أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَ لكِنْ رَّسُولَ اللهِ وَ خَاتَمَ ہاں! وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے خاتم ہیں۔ کیا تو النَّبِيِّنَ أَلا تَعْلَمُ أَنَّ الرَّبَّ الرَّحِيمَ نہیں جانتا کہ اس محسن رب نے ہمارے نبی کا نام الْمُتَفَضَّلَ سَلَّى نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خاتم الانبیاء رکھا ہے اور کسی کو مستثنی نہیں کیا اور آنحضرت خَاتَمَ الْأَنْبِيَاءِ بِغَيْرِ اسْتِثْنَاءِ، وَفَتَرَہ نے طالبوں کے لیے بیان واضح سے اس کی تفسیر یہ کی نَبِيِّنَا فِي قَوْلِهِ لَا نَبِيَّ بَعْدِى بِبَیان ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اور اگر ہم واضح لِلطَّالِبِينَ وَلَوْ جَوَّزْنَا ظُهُورَ نَبِي الحضرت کے بعد کسی نبی کا ظہور جائز رکھیں تو لازم بَعْدَ نَبِيِّنَا لَجَوَّزْنَا الْفِتَاحَ بَابِ وَحي آتا ہے کہ وحی نبوۃ کے دروازہ کا انفتاح بھی بند ہونے النُّبُوَّةِ بَعْدَ تَغْلِيقِهَا ، وَهَذَا خُلْفٌ کے بعد جائز خیال کریں اور یہ باطل ہے جیسا کہ له الاحزاب : ۴۱