تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 432
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۱ سورة الرعد لِحُكْمِهِ وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ۔سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ جب کوئی خدا کی طرف سے آتا ہے اور اس کی تکذیب کی جاتی ہے تو طرح طرح کی آفتیں آسمان سے نازل ہوتی ہیں جن میں اکثر ایسے لوگ پکڑے جاتے ہیں جن کا اس تکذیب سے کچھ تعلق نہیں۔پھر رفتہ رفتہ ائمتہ الکفر پکڑے جاتے ہیں اور سب سے آخر بڑے شریروں کا وقت آتا ہے اس کی طرف اللہ تعالیٰ اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے : آنا نَأْتِي الْأَرْضَ تَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا يعنى ہم آہستہ آہستہ زمین کی طرف آتے جاتے ہیں۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۶۶) سنت اللہ یہی ہے کہ ائمہ الکفر اخیر میں پکڑے جایا کرتے ہیں۔چنانچہ حضرت موسیٰ کے وقت جس قدر عذاب پہلے نازل ہوئے ان سب میں فرعون بچار ہا چنانچہ قرآن شریف میں بھی آیا کہ نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطرافها یعنی ابتدا عوام سے ہوتا ہے اور پھر خواص پکڑے جاتے ہیں اور بعض کے بچانے میں اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت بھی ہوتی ہے کہ انہوں نے آخر میں تو بہ کرنی ہوتی ہے یا ان کی اولاد میں سے کسی نے اسلام قبول کرنا ہوتا ہے۔الحاکم جلد ۶ نمبر ۱۵ مورخه ۱/۲۴ پریل ۱۹۰۲ صفحه ۷) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اَو لَمْ يَرُوا اَنَا نَأْتِي الْأَرْضَ تَنْقُصُهَا مِنْ أطرافها ہم دور دور سے زمین کو گھٹاتے چلے آتے ہیں۔یہ عادت اللہ ہے کہ اول عذاب ایسے لوگوں سے شروع ہوتا ہے جو دور دور ہوتے ہیں اور ضعیف اور کمزور ہوتے ہیں۔بیوقوف یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ صرف انہیں کے لئے ہے ہمارے لئے نہیں مگر عذاب لیک کر ان تک پہنچتا ہے جن کو خبر نہیں ہوتی اور بے پرواہ ہوتے ہیں۔خدا کی اس میں حکمتیں ہوتی ہیں۔چاہتا ہے کہ یہ اور شوخی کر لیں۔( البدر جلد نمبر ۶،۵ مورخه ۲۸ نومبر و ۵/ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحه ۳۷) وَ يَقُولُ الَّذِيْنَ كَفَرُوا لَسْتَ مُرْسَلَا قُلْ كَفَى بِاللهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَ مَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الكِتب۔یعنی جو لوگ کہتے ہیں کہ تو خدا کا رسول نہیں ان کو کہہ دے کہ تم میں اور مجھ میں خدا گواہ کافی ہے اور نیز وہ جس کو کتاب کا علم ہے۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۴۹) ان ( پہلی ) کتابوں سے اجتہاد کرنا حرام نہیں ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا