تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 425
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۴ سورة الرعد اس کو کوئی ضائع نہیں کرتا یہاں تک کہ کوئی گھوڑا بیل یا گائے بکری اگر مفید ہو اور اس سے فائدہ پہنچتا ہو، کون ہے جو اس کو ذبح کر ڈالے لیکن جب وہ ناکارہ ہو جاتا ہے اور کسی کام نہیں آسکتا تو پھر اس کا آخری علاج وہی ذبح ہے اور یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اگر اور نہیں تو دو چار روپیہ کو کھال ہی بک جائے گی اور گوشت بھی کام آجائے گا۔اسی طرح پر جب انسان خدا تعالیٰ کی نظر میں کسی کام کا نہیں رہتا اور اس کے وجود سے کوئی فائدہ دوسرے لوگوں کو نہیں ہوتا تو پھر اللہ تعالیٰ اس کی پروا نہیں کرتا بلکہ خس کم جہاں پاک کے موافق اس کو ہلاک کر الحکم جلد ۸ نمبر ۱۱ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۵) دیتا ہے۔جو چاہتا ہے کہ عمر زیادہ ہو۔۔۔اس کو لازم ہے کہ وہ کامل الایمان ہو اور اپنے وجود کو قابل قدر بنادے اور اس کی یہی صورت ہے کہ لوگوں کو نفع پہنچاوے اور دین کی خدمت کرے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَأَمامَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ۔یہ خوب یا درکھو کہ عمر کھانے پینے سے لمبی نہیں ہو سکتی بلکہ اس کی اصل راہ وہی ہے جو میں نے بیان کی ہے۔الحکم جلد ۸ نمبر ۳۱ مورخه ۷ ارستمبر ۱۹۰۴ صفحه ۴) ہر قسم کی راحت صحت عمر و دولت یہ سب اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں ہے۔جب انسان کا وجود ایسا نافع اور سودمند ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو ضائع نہیں کرتا جیسے باغ میں کوئی درخت عمدہ پھل دینے والا ہو تو اسے باغبان کاٹ نہیں ڈالتا بلکہ اس کی حفاظت کرتا ہے اسی طرح نافع اور مفید وجود کو اللہ تعالیٰ بھی محفوظ رکھتا ہے جیسا کہ اس نے فرمایا ہے : وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَنكُتُ فِي الْأَرْضِ جو لوگ دنیا کے لئے نفع رسان لوگ بنتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی عمریں بڑھا دیتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں جو بچے ہیں اور کوئی ان کو جھٹلا نہیں سکتا۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سچے اور فرمانبردار بندے ایسی بلاؤں سے محفوظ رہتے ہیں۔الحکم جلد ۸ نمبر ۴۳، ۴۴ مورخه ۱۷ تا ۲۴ دسمبر ۱۹۰۴ ء صفحه ۴) نافع چیز کو درازی عمر نصیب ہوتی ہے اور خدادین سے غافلوں کو ہلاکت میں ڈالنے سے پرواہ نہیں کرتا۔الحکم جلد ۹ نمبر ۵ مورخه ۱۰ / فروری ۱۹۰۵ صفحه ۵) شریعت میں ہر ایک امرجو : مَا يَنْفَعُ النَّاس کے نیچے آئے اس کو دیر پارکھا جاتا ہے۔الحکم جلد ۹ نمبر ۳۵ مورخه ۱۰/اکتوبر ۱۹۰۵ صفحه ۳) اللہ تعالی جانتا ہے کہ ان لوگوں کی ہمدردی کے لیے کس قدر میرے دل میں تڑپ اور جوش ہے اور میں حیران ہوں کہ کس طرح ان لوگوں کو سمجھاؤں۔یہ لوگ کسی طرح بھی مقابلہ میں نہیں آتے۔تین ہی راہیں ہیں