تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 424
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۴۲۳ سورة الرعد نصرت میں اس کے مخلص احباب ہوں گے اور خدمت دین میں لگے ہوئے ہوں گے ان کی عمریں دراز کردی جائیں گی اس واسطے کہ وہ لوگ نفع رساں وجود ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے : وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَنكُتُ فِي الْأَرْضِ۔یہ امر قانونِ قدرت کے موافق ہے کہ عمریں دراز کر دی جائیں گی۔اس زمانہ کو جو دراز کیا ہے یہ بھی اس کی رحمت ہے اور اس میں کوئی خاص مصلحت ہے۔الحکم جلدے نمبر ۳۰ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۰) جو کوئی اپنی زندگی بڑھانا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ نیک کاموں کی تبلیغ کرے اور مخلوق کو فائدہ پہنچاوے۔جب اللہ تعالیٰ کسی دل کو ایسا پاتا ہے کہ اس نے مخلوق کی نفع رسانی کا ارادہ کر لیا ہے تو وہ اسے توفیق دیتا اور اس کی عمر دراز کرتا ہے۔جس قدر انسان اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے اور اس کی مخلوق کے ساتھ شفقت کے ساتھ پیش آتا ہے اسی قدر اس کی عمر دراز ہوتی اور اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہوتا اس کی زندگی کی قدر کرتا ہے لیکن جس قدر وہ خدا تعالیٰ سے لا پروا اور لا ابالی ہوتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی پروا نہیں کرتا۔اس جگہ ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ بعض لوگ جو نیک اور برگزیدہ ہوتے ہیں چھوٹی عمر میں بھی اس جہان سے رخصت ہوتے ہیں اور اس صورت میں گویا یہ قاعدہ اور اصل ٹوٹ جاتا ہے مگر یہ ایک غلطی اور دھوکا ہے۔دراصل ایسا نہیں ہوتا۔یہ قاعدہ کبھی نہیں ٹوٹتا مگر ایک اور صورت پر درازی عمر کا مفہوم پیدا ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ زندگی کا اصل منشا اور درازی عمر کی غایت تو کامیابی اور با مراد ہوتا ہے۔پس جب کوئی شخص اپنے مقاصد میں کامیاب اور بامراد ہو جاوے اور اس کو کوئی حسرت اور آرزو باقی نہ رہے اور مرتے وقت نہایت اطمینان کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہو تو وہ گویا پوری عمر حاصل کر کے مرا ہے اور درازی عمر کے مقصد کو اس نے پالیا ہے اس کو چھوٹی عمر میں مرنے والا کہنا سخت غلطی اور نادانی ہے۔صحابہ میں بعض ایسے تھے جنہوں نے ہیں بائیس برس کی عمر پائی مگر چونکہ ان کو مرتے وقت کوئی حسرت اور نامرادی باقی نہ رہی بلکہ کامیاب ہو کر اٹھے تھے اس لئے انہوں نے زندگی کا اصل منشا حاصل کر لیا تھا۔الحکم جلدے نمبر ۳۱ مورخه ۲۴ /اگست ۱۹۰۳ صفحه ۲، ۳) چاہیے کہ انسان پہلے اپنے آپ کو دکھ پہنچائے تا خدا تعالیٰ کو راضی کرے۔اگر وہ ایسا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی عمر بڑھا دے گا۔اللہ تعالیٰ کے وعدوں میں مختلف نہیں ہوتا اس نے جو وعدہ فرمایا ہے کہ اماما يَنفَعُ النَّاسَ فَيَنكُتُ فِي الْأَرْضِ۔یہ بالکل سچ ہے۔عام طور پر بھی یہی قاعدہ ہے کہ جو چیز نفع رساں ہو