تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 423
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۲ سورة الرعد انسان بہت بڑے کام کے لئے بھیجا گیا ہے لیکن جب وقت آتا ہے اور وہ اس کام کو پورا نہیں کرتا تو خدا اس کا تمام کام کر دیتا ہے۔خادم کو ہی دیکھ لو کہ جب وہ ٹھیک کام نہیں کرتا تو آقا اس کو الگ کر دیتا ہے۔پھر خدا تعالیٰ اس وجود کو کیوں کر قائم رکھے جو اپنے فرض کو ادا نہیں کرتا۔القام جلد ۶ نمبر ۲۹ مورخه ۷اراگست ۱۹۰۲ صفحه ۹۰۸) یہ جو اعتراض کیا جاتا ہے کہ بعض مخالف اسلام بھی لمبی عمر حاصل کرتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟ میرے نزدیک اس کا سبب یہ ہے کہ ان کا وجود بھی بعض رنگ میں مفید ہی ہوتا ہے۔دیکھو ابو جہل بدر کی جنگ تک زندہ رہا۔اصل بات یہ ہے کہ اگر مخالف اعتراض نہ کرتے تو قرآن شریف کے ۳۰ سپارے کہاں سے آتے۔جس کے وجود کو اللہ تعالی مفید سمجھتا ہے اسے مہلت دیتا ہے۔ہمارے مخالف بھی جو زندہ ہیں اور مخالفت کرتے ہیں ان کے وجود سے بھی یہ فائدہ پہنچتا ہے کہ خدا تعالیٰ قرآن شریف کے حقائق و معارف عطا کرتا ہے۔اب اگر مہرعلی شاہ اتنا شور نہ مچاتا تو نزول مسیح کیسے لکھا جاتا۔اس طرح پر جو دوسرے مذاہب باقی ہیں ان کے بقا کا بھی یہی باعث ہے تا کہ اسلام کے اصولوں کی خوبی اور حسن ظاہر ہو۔الحکام جلد ۶ نمبر ۲۸ مورخه ۱۰ راگست ۱۹۰۲ صفحه ۱۱) جولوگ دین کے لئے سچا جوش رکھتے ہیں ان کی عمر بڑھائی جاوے گی اور حدیثوں میں جو آیا ہے کہ مسیح موعود کے وقت عمریں بڑھادی جاویں گی۔اس کے معنی یہی مجھے سمجھائے گئے ہیں کہ جو لوگ خادم دین ہوں گے ان کی عمریں بڑھائی جاویں گی۔جو خادم نہیں ہو سکتا وہ بڑھے بیل کی مانند ہے کہ مالک جب چاہے اسے ذبح کر ڈالے اور جو سچے دل سے خادم ہے وہ خدا کا عزیز بھہرتا ہے اور اس کی جان لینے میں خدا تعالیٰ کو تردد ہوتا ہے اس لئے فرمایا: وَ آمَا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُتُ فِي الْأَرْضِ - الحکم جلد ۶ نمبر ۳۱ مورخه ۳۱ راگست ۱۹۰۲ ء صفحه ۸) جو شخص اپنے وجود کو نافع الناس بنا دیں گے ان کی عمریں خدا ز یادہ کرے گا۔خدا تعالیٰ کی مخلوق پر شفقت بہت کرو اور حقوق العباد کی بجا آوری پورے طور پر بجالانی چاہیے۔البدر جلد ۲ نمبر ۱۸ مورخه ۲۲ مئی ۱۹۰۳ صفحه ۱۳۸) احادیث میں جو آیا ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں عمریں لمبی ہو جائیں گی اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ موت کا دروازہ بالکل بند ہو جائے گا اور کوئی شخص نہیں مرے گا بلکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ مالی ، جانی