تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 422
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۱ سورة الرعد النَّاسَ فَيَنكُتُ فِي الْاَرْضِ یعنی جو نفع رسان وجود ہوتے ہیں ان کی عمر دراز ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو درازی عمر کا وعدہ فرمایا ہے جو دوسرے لوگوں کے لئے مفید ہیں حالانکہ شریعت کے دو پہلو ہیں ؛ اول خدا تعالیٰ کی عبادت دوسرے بنی نوع سے ہمدردی۔لیکن یہاں یہ پہلو اس لئے اختیار کیا ہے کہ کامل عابد وہی ہوتا ہے جو دوسروں کو نفع پہنچائے۔پہلے پہلو میں اول مرتبہ خدا تعالیٰ کی محبت اور توحید کا ہے اس میں انسان کا فرض ہے کہ دوسروں کو نفع پہنچائے اور اس کی صورت یہ ہے ان کو خدا کی محبت پیدا کرنے اور اس کی توحید پر قائم ہونے کی ہدایت کرے۔جیسا کہ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ (العصر : ۴) سے پایا جاتا ہے۔انسان بعض وقت خود ایک امر کو سمجھ لیتا ہے لیکن دوسرے کو سمجھانے پر قادر نہیں ہوتا اس لئے اس کو چاہئیے کہ محنت اور کوشش کر کے دوسروں کو بھی فائدہ پہنچا وے۔ہمدردی خلائق یہی ہے کہ محنت کر کے دماغ خرچ کر کے ایسی راہ نکالے کہ دوسروں کو فائدہ پہنچا سکے تا کہ عمر دراز ہو۔اقام جلد ۶ نمبر ۲۴ مورخہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۰۲ صفحه ۴) حقیقت یہ ہے کہ جو شخص دنیا کے لئے نفع رساں ہو اس کی عمر دراز کی جاتی ہے۔اس پر جو یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر چھوٹی تھی۔یہ اعتراض صحیح نہیں ہے۔اول اس لئے کہ انسانی زندگی کا اصل منشا اور مقصد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حاصل کر لیا۔آپ دنیا میں اس وقت آئے جبکہ دنیا کی حالت بالطبع مصلح کو چاہتی تھی اور پھر آپ اس وقت اُٹھے جب پوری کامیابی اپنی رسالت میں حاصل کر لی۔اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينگم کی صدا کسی دوسرے آدمی کو نہیں آئی اور۔۔۔۔۔پوری کامیابی کا نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اب جس حال میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پورے طور پر کامیاب ہو کر اُٹھے پھر یہ کہنا کہ آپ کی عمر تھوڑی تھی سخت غلطی ہے۔اس کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے برکات اور فیوض ابدی ہیں اور ہر زمانہ میں آپ کے فیوض کا دروازہ کھلا ہوا ہے اس لئے آپ کو زندہ نبی کہا جاتا ہے اور حقیقی حیات آپ کو حاصل ہے۔طول عمر کا جو مقصد تھا وہ حاصل ہو گیا اور اس آیت کے موافق آپ ابدالآباد کے لئے زندہ رہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۲۸ مورخه ۱۰ راگست ۱۹۰۲ صفحه ۷ ) خدا تعالیٰ جب اپنا فضل کرتا ہے تو کوئی تکلیف باقی نہیں رہتی مگر اس کے لئے یہ ضروری شرط ہے کہ انسان اپنے اندر تبدیلی کرے۔پھر جس کو وہ دیکھتا ہے کہ یہ نافع وجود ہے تو اس کی زندگی میں ترقی دے دیتا ہے ہماری کتاب میں اس کی بابت صاف لکھا ہے : وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُتُ فِي الْأَرْضِ۔ایسا ہی پہلی کتابوں سے بھی پایا جاتا ہے۔حزقیاہ نبی کی کتاب میں بھی درج ہے۔