تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 421 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 421

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۰ سورة الرعد ایسا پانی اتارا جس سے ہر ایک وادی بقدرا اپنی وسعت کے بہہ نکلا ہے۔ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۳۰) وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَنكُتُ فِي الْأَرْضِ الجز و نمبر ۱۳ یعنی جو چیز انسانوں کو نفع پہنچاتی ہے وہ زمین پر باقی رہتی ہے اب ظاہر ہے کہ دنیا میں زیادہ تر انسانوں کو نفع پہنچانے والے گروہ انبیاء ہیں کہ جو خوارق سے، معجزات سے، پیشگویوں سے، حقائق سے ، معارف سے، اپنی راستبازی کے نمونہ سے انسانوں کے ایمان کو قوی کرتے ہیں اور حق کے طالبوں کو دینی نفع پہنچاتے ہیں اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ دنیا میں کچھ بہت مدت تک نہیں رہتے بلکہ تھوڑی سی زندگی بسر کر کے اس عالم سے اٹھائے جاتے ہیں لیکن آیت کے مضمون میں خلاف نہیں اور ممکن نہیں کہ خدا تعالیٰ کا کلام خلاف واقع ہو۔پس انبیاء کی طرف نسبت دے کر معنی آیت کے یوں ہوں گے کہ انبیاء من حیث الکل باقی رکھے جاتے ہیں اور خدا تعالی ظلی طور پر ہر یک ضرورت کے وقت میں کسی اپنے بندہ کو ان کی نظیر اور مثیل پیدا کر دیتا ہے جو انہیں کے رنگ میں ہوکر ان کی دائی زندگی کا موجب (شهادة القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۵۲،۳۵۱) اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ وعدہ کیا ہے کہ جو لوگ دوسروں کو نفع پہنچاتے ہیں اور مفید وجود ہوتے ہیں ان کی عمر دراز ہوتی ہے جیسے کہ فرمایا : أَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَنتُ فِي الْأَرْضِ۔اور دوسری قسم کی ہمدردیاں چونکہ محدود ہیں اس لئے خصوصیت کے ساتھ جو خیر جاری قرار دی جاسکتی ہے وہ یہی دعا کی خیر جاری ہے جب کہ خیر کا نفع کثرت سے ہے تو اس آیت کا فائدہ ہم سب سے زیادہ دعا کے ساتھ اٹھا سکتے ہیں۔یہ بالکل سچی بات ہے کہ جو دنیا میں خیر کا موجب ہوتا ہے اس کی عمر دراز ہوتی ہے اور جو شر کا موجب ہوتا ہے وہ جلدی اٹھا لیا جاتا ہے۔کہتے ہیں شیر سنگھ چڑیوں کو زندہ پکڑ کر آگ پر رکھا کرتا تھا وہ دو برس کے اندر ہی مارا گیا پس انسان کو لازم کہ وہ خیر الناس من ينفع الناس بننے کے واسطے سوچتار ہے اور مطالعہ کرتا رہے۔جس طرح طبابت میں حیلہ کام آتا ہے اسی طرح نفع رسانی اور خیر میں بھی حیلہ ہی کام دیتا ہے۔اس لئے ہوتا ہے ضروری ہے کہ انسان ہر وقت اس تاک اور فکر میں لگا رہے کہ کس راہ سے دوسرے کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔احکام جلد ۴ نمبر ۲۵ مورخه ۹ر جولائی ۱۹۰۰ صفحه ۲) ہر ایک شخص چاہتا ہے کہ اس کی عمر دراز ہو لیکن بہت ہی کم ہیں وہ لوگ جنہوں نے کبھی اس اصول اور طریق پر غور کی ہو جس سے انسان کی عمر دراز ہو۔قرآن شریف نے ایک اصول بتایا ہے : وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ