تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 420
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۹ سورة الرعد اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَالَتْ اَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ ذَبَدًا ذَا بِيَاء وَ مِمَّا يُوقِدُونَ عَلَيْهِ فِي النَّارِ ابْتِغَاءَ حِلْيَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدُ مِثْلُهُ كَذلِكَ يَضْرِبُ اللهُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ ، فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاء وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُتُ في الْأَرْضِ كَذلِكَ يَضْرِبُ اللهُ الْأَمْثَالَ۔خدا نے آسمان سے پانی ( اپنا کلام ) اتار اسو اس پانی سے ہر ایک وادی اپنی قدر کے موافق بہ نکلا۔یعنی ہر یک کو اس میں سے اپنی طبیعت اور خیال اور لیاقت کے موافق حصہ ملا۔طبائع عالیہ اسرار حکمیہ سے متمتع ہوئیں۔اور جو اُن سے بھی اعلیٰ تھے انہوں نے ایک عجیب روشنی پائی کہ جو حد تحریر و تقریر سے خارج ہے اور جو کم درجہ پر تھے انہوں نے مخبر صادق کی عظمت اور کمالیت ذاتی کو دیکھ کر دلی اعتقاد سے اس کی خبروں پر یقین کر لیا اور اس طرح پر وہ بھی یقین کی کشتی میں بیٹھ کر ساحل نجات تک جا پہنچے اور صرف وہی لوگ باہر رہ گئے جن کو خدا سے کچھ غرض نہ تھی اور فقط دنیا کے ہی کیڑے تھے۔( براہینِ احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۱۲ حاشیہ نمبر۱۱) اسی نے آسمان سے پانی اتارا۔پھر ہر یک وادی اپنے اپنے اندازہ اور قدر کے موافق یہ نکلا یعنی ہر یک شخص نے اپنی استعداد کے موافق فائدہ اٹھایا۔(براہین احمدیہ چہارحصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۳۳) اے غافلو! اس امت مرحومہ میں وحی کی نالیاں قیامت تک جاری ہیں مگر حسب مراتب۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۲۱) آسمان سے پانی اتارا۔پس ہر ایک وادی اپنے اپنے قدر میں بہ نکلا۔۔جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۸۶) خدا تعالیٰ نے آسمان پر سے پانی اتارا پس اپنے اپنے قدر پر ہر یک وادی به نکلی یعنی جس قدر دنیا میں طبائع انسانی ہیں قرآن کریم ان کے ہر یک مرتبہ فہم اور عقل اور ادراک کی تربیت کرنے والا ہے۔اور یہ امر مستلزم کمال نام ہے کیونکہ اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن کریم اس قدر وسیع دریائے معارف ہے کہ محبت الہی کے تمام پیاسے اور معارف حقہ کے تمام تشنہ لب اسی سے پیتے ہیں۔کرامات الصادقین، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۵۹)