تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 418 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 418

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۷ سورة الرعد كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ إِلَى الْمَاءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَالِغِهِ ۖ وَمَا دُعَاءِ الْكَفِرِينَ إِلَّا فِي لله تمام حاجتوں کو اس سے مانگنا چاہیے اور جولوگ بجز اس کے اور اور چیزوں سے اپنی حاجت مانگتے ہیں وہ چیزیں ان کی دعاؤں کا کچھ جواب نہیں دیتیں۔ایسے لوگوں کی یہ مثال ہے جیسے کوئی پانی کی طرف دونوں ہاتھ پھیلا کر کہے کہ اے پانی میرے منہ میں آجا۔سو ظاہر ہے کہ پانی میں یہ طاقت نہیں کہ کسی کی آواز سنے اور خود بخود اس کے منہ میں پہنچ جائے۔اسی طرح مشرک لوگ بھی اپنے معبودوں سے عبث طور پر مدد طلب کرتے ہیں جس پر کوئی فائدہ مترتب نہیں ہوسکتا۔برائن احمد یه چهار تحصص ، روحانی خزائن جلد اصفحه ۵۲۲ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) دعا کرنے کے لائق وہی سچا خدا ہے جو ہر ایک بات پر قادر ہے اور جو لوگ اس کے سوا اوروں کو پکارتے ہیں وہ کچھ بھی ان کو جواب نہیں دے سکتے۔ان کی مثال ایسی ہے کہ جیسا کوئی پانی کی طرف ہاتھ پھیلا دے کہ اے پانی میرے منہ میں آجا۔تو کیا وہ اس کے منہ میں آجائے گا۔ہر گز نہیں۔سو جو لوگ سچے خدا سے بے خبر ہیں ان کی تمام دعائیں باطل ہیں۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۱۷) قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ قُلِ اللهُ قُلْ أَفَاتَّخَذْتُمْ مِنْ دُونِةٍ أَوْلِيَاءَ لَا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَلَا ضَرًّا قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَى وَالْبَصِيرُ أَمْ هَلْ تَسْتَوَى الظُّلمتُ وَالنُّورُ اَم جَعَلُوا لِلهِ شُرَكَاءَ خَلَقُوا كَخَلْقِهِ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ قُلِ الله خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ کیا انہوں نے خدا تعالیٰ کے شریک ایسی صفات کے ٹھہرا رکھے ہیں کہ جیسے خدا تعالیٰ خالق ہے وہ بھی خالق ہیں تا اس دلیل سے انہوں نے ان کو خدا مان لیا۔ان کو کہہ دے کہ ثابت شدہ یہی امر ہے کہ اللہ تعالیٰ خالق ہر ایک چیز کا ہے اور وہی اکیلا ہر ایک چیز پر غالب اور قاہر ہے۔(جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۶۸) یعنے خدا ہر ایک چیز کا خالق ہے کیونکہ وہ اپنی ذات اور صفات میں واحد ہے اور واحد بھی ایسا کہ قہار ہے